hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 1945

.

سنن البيهقي

1945
Sunan Al Bayhaqi
(۱۹۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ شَاذَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ أَبُو خَیْثَمَۃَ عَنْ أَخِیہِ الرُّحَیْلِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ أُؤَذِّنُ فِی السَّفَرِ؟ قَالَ: لِمَنْ تُؤَذِّنُ لِلْفَأْرِ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذَا الَّذِی ذَہَبَ إِلَیْہِ ابْنُ عُمَرَ شَیْئٌ یُحْتَمَلُ ، لَوْلاَ حَدِیثُ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فِی الأَذَانِ فِی الْبَادِیَۃِ وَحَدِیثُ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَغَیْرِہِ فِی أَذَانِ الرَّاعِی، وَفِی کُلِّ ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الأَذَانَ مِنْ سُنَّۃِ الصَّلاَۃِ وَإِنْ کَانَ وَحْدَہُ ، وَیُسْتَدَلُّ بِحَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ عَلَی أَنَّ تَرْکَ الأَذَانِ فِی السَّفَرِ أَخَفُّ مِنْ تَرْکِہِ فِی الْحَضَرِ۔ وَرُوِّینَا عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ أَنَّہُ قَالَ فِی الْمُسَافِرِ: إِنْ شَائَ أَذَّنَ وَأَقَامَ ، وَإِنْ شَائَ أَقَامَ۔ وَبَعْضُ النَّاسِ رَفَعَ حَدِیثَ ابْنِ عُمَرَ وَہُوَ وَہْمٌ فَاحِشٌ۔ [ضعیف]
(١٩٤٥) (الف) أبی زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے سوال کیا : کیا میں سفر میں اذان دوں ؟ انھوں نے کہا : کس کے لیے اذان دے گا ؟ کیڑے مکوڑوں کے لیے۔
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) کا مؤقف محتمل ہے۔ اگر سیدنا ابو سعید خدری کی جنگل میں اذان والی حدیث اور سیدنا انس بن مالک وغیرہ کی چرواہے والی حدیث نہ ہوتی۔ ان تمام احادیث میں دلالت ہے کہ اذان کہنا سنت ہے اگرچہ آدمی اکیلا ہو۔ سیدنا ابن عمر (رض) کی حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ سفر میں اذان ترک کرنا بہ نسبت حضر کے کم درجہ کی چیز ہے۔
(ج) سیدنا علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے، وہ مسافر کے متعلق فرماتے ہیں : اگر وہ چاہے اذان دے اور اقامت کہے اور اگر چاہے تو اقامت کہے، بعض لوگوں نے ابن عمر (رض) کی حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے اور یہ وہم فاحش ہے۔