(۱۹۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمَّا کَثُرَ النَّاسُ ذَکَرُوا أَنْ یُعْلِمُوا وَقْتَ الصَّلاَۃِ بِشَیْئٍ یَعْرِفُونَہُ ، فَذَکَرُوا أَنْ یُنَوِّرُوا نَارًا أَوْ یَضْرِبُوا نَاقُوسًا فَأُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ یَشْفَعَ الأَذَانَ وَیُوتِرَ الإِقَامَۃَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ بَہْزِ بْنِ أَسَدٍ عَنْ وُہَیْبٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۷۸]
(١٩٥٢) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ جب لوگ زیادہ ہوگئے تو انھوں نے ذکر کیا کہ وہ کس چیز کے ساتھ نماز کے وقت کو معلوم کریں اور اس کو پہچانیں۔ لوگوں نے ذکر کیا کہ آگ جلائیں یا ناقوس بجائیں بالآخر بلال (رض) کو حکم دیا گیا کہ اذان دوہری کہے اور اقامت ایک ایک مرتبہ کہے۔