(١٩٥٥٢) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ نَفَرٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ صَاحِبًا لَنَا اشْتَکَی أَفَنَکْوِیہِ ؟ قَالَ فَسَکَتَ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَ : إِنْ شِئْتُمْ فَاکْوُوہُ وَإِنْ شِئْتُمْ فَارْضِفُوہُ ۔ یَعْنِی بِالْحِجَارَۃِ ۔
وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ بِمَعْنَاہُ وَقَالَ : فَارْضِفُوہُ بِالرَّضْفِ ۔ [صحیح ]
(١٩٥٥٢) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ایک گروہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آکر کہا : ہمارا ایک ساتھی بیمار ہے کیا ہم اس کو داغ دیں ؟ راوی کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھوڑی دیر خاموش رہے ۔ پھر فرمایا : اگر چاہو لوہے یا پتھر سے داغ دو ۔ (ب) ابو اسحاق کی روایت میں ہے کہ پتھر سے داغ دو ۔