(١٩٥٥٤) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْرَفِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا رَیْحَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَذِنَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لأَہْلِ بَیْتٍ مِنَ الأَنْصَارِ یَرْقُوا مِنَ الْحُمَۃِ وَأَذِنَ بِرُقْیَۃِ الْعَیْنِ وَالنَّفْسِ وَقَالَ أَنَسٌ : کُوِیتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ وَرَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَیٌّ وَشَہِدَنِی أَبُو طَلْحَۃَ وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَبُو طَلْحَۃَ کَوَانِی۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ وَسَاقَ ہَذَا الْحَدِیثَ بَعْدَ حَدِیثِ عَارِمٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ وَأَنَسَ بْنَ النَّضْرِ کَوَیَاہُ وَکَوَاہُ أَبُو طَلْحَۃَ بِیَدِہِ ۔ [صحیح۔ بدون قول ولانعس ]
(١٩٥٥٤) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کو زہریلے جانور کے ڈسنے کی وجہ سے دم کرنے کی اجازت دی۔ اسی طرح نظر وغیرہ کے دم کی بھی اجازت دی۔ حضرت انس فرماتے ہیں : ذات الجنب کسی وجہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں داغا جاتا تھا اور میرے دغوانے کے وقت ابو طلحہ، انس بن نضر، زید بن ثابت، ابو طلحہ موجود تھے۔
(ب) ابو قلابہ حضرت انس سے بیان کرتے ہیں کہ ابو طلحہ اور انس بن نضر نے داغ دیا تھا۔