(١٩٥٦١) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا فُلَیْحُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمَدَنِیُّ أَخْبَرَنِی أَیُّوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِیُّ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ أَبِی یَعْقُوبَ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ الأَنْصَارِیَّۃِ وَکَانَتْ بَعْضَ خَالاَتِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَمَعَہُ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نَاقِہٌ مِنَ الْمَرَضِ وَفِی الْبَیْتِ عِذْقٌ مُعَلَّقٌ فَقَامَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَتَنَاوَلَ مِنْہُ فَأَقْبَلَ عَلِیٌّ یَتَنَاوَلُ مِنْہُ فَقَالَ : دَعْہُ فَإِنَّہُ لاَ یُوَافِقُکَ إِنَّکَ نَاقِہٌ ۔ قَالَتْ : فَقُمْتُ إِلَی شَعِیرٍ وَسِلْقٍ وَطَبَخْتُہُ فَجِئْتُ بِہِ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : کُلْ مِنْ ہَذَا فَإِنَّہُ أَنَفَعُ لَکَ ۔ کَذَا قَالَ أُمُّ مُبَشِّرٍ ۔ وَکَذَلِکَ قَالَہُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِیُّ عَنْ زَیْدِ بْنِ الْحُبَابِ ۔ [ضعیف ]
(١٩٥٦١) ام بشر انصاریہ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعض خالاؤں میں سے ہیں، فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت علی (رض) جو بیماری سے کمزور ہوچکے تھے، ہمارے گھر آئے اور وہاں کھجوروں کا ایک خوشہ لٹک رہا تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کھجوریں کھائیں۔ حضرت علی (رض) لینے لگے : تو فرمایا تو کمزور ہے یہ تیری طبیعت کے موافق نہیں چھوڑ دو ۔ تو میں نے جو اور چکندر پکا کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیش کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! کھاؤ یہ تمہارے لیے فائدہ مند ہے۔