(١٩٥٩٥) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنِ الرُّقَی وَکَانَ عِنْدَ آلِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ رُقْیَۃٌ یَرْقُونَ بِہَا مِنَ الْعَقْرَبِ فَأَتَوُا النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ نَہَیْتَ عَنِ الرُّقَی وَکَانَتْ عِنْدَنَا رُقْیَۃٌ نَرْقِی بِہَا مِنَ الْعَقْرَبِ قَالَ : فَاعْرِضْہَا عَلَیَّ ۔ فَعَرَضَہَا عَلَیْہِ فَقَالَ : مَا أَرَی بَأْسًا مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یَنْفَعَ أَخَاہُ فَلْیَنْفَعْہُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ ۔ [صحیح۔ مسلم ]
(١٩٥٩٥) ابو سفیان جابر سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دم سے منع فرمایا اور عمرو بن حزم بچھو کے ڈس جانے کی وجہ سے دم کرتے ہیں۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دم سے منع فرمایا ہے۔ حالانکہ ہم بچھو کے ڈسنے کا دم کرتے تھے۔ فرمایا : میرے سامنے پڑھو۔ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنایا۔ فرمایا : کوئی حرج نہیں جو کوئی اپنے بھائی کو نفع دے سکے تو دے۔