(١٩٥٩٨) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ أَبَا خِزَامَۃَ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ دَوَائً نَتَدَاوَی بِہِ وَرُقًی نَسْتَرْقِی بِہَا وَأَتْقَائً نَتَّقِیہَا ہَلْ یَرُدُّ ذَلِکَ مِنْ قَدَرِ اللَّہِ مِنْ شَیْئٍ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّہُ مِنْ قَدَرِ اللَّہِ ۔ [ضعیف ]
(١٩٥٩٨) ابو خزاعہ کے والد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول ! آپ کا دوا کروانے اور دم کے متعلق کیا خیال ہے یا جس کو ہم بچاؤ کے لیے استعمال کرتے ہیں کیا : یہ اللہ کی تقدیر کو ٹال سکتی ہیں ؟ پھر فرمایا : یہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہیں۔