(١٩٦٤٨) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : مَنْ مَرَّ لِرَجُلٍ بِزَرْعٍ أَوْ ثَمَرٍ أَوْ مَاشِیَۃٍ أَوْ غَیْرِ ذَلِکَ مِنْ مَالِہِ لَمْ یَکُنْ لَہُ أَخْذُ شَیْئٍ مِنْہُ إِلاَّ بِإِذْنِہِ لأَنَّ ہَذَا مِمَّا لَمْ یَأْتِ فِیہِ کِتَابٌ وَلاَ سُنَّۃٌ ثَابِتَۃٌ بِإِبَاحَتِہِ فَہُوَ مَمْنُوعٌ لِمَالِکِہِ إِلاَّ بِإِذْنِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ قَالَ وَقَدْ قِیلَ مَنْ مَرَّ بِحَائِطٍ فَلْیَأْکُلْ وَلاَ یَتَّخِذْ خُبْنَۃً ۔
وَرُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ لَوْ کَانَ یَثْبُتُ مِثْلُہُ عِنْدَنَا لَمْ نُخَالِفْہُ وَالْکِتَابُ وَالْحَدِیثُ الثَّابِتُ أَنَّہُ لاَ یَجُوزُ أَکْلُ مَالِ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِہِ ۔
قَالَ الشَّیْخُ أَمَّا قَائِلُ ہَذَا الْقَوْلِ فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [صحیح ]
(١٩٦٤٨) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : جب کوئی کھیتی، باغ، پھل یا مویشیوں کے پاس سے گزرے تو بغیر اجازت کے کچھ نہ لے۔ کیونکہ کسی بھی دلیل سے اس کا لینا درست ثابت نہیں ہے۔ صرف مالک کی اجازت سے ممکن ہے۔ فرماتے ہیں : جو باغ کے پاس سے گزرے وہ پھل توڑ کر کھالے ، لیکن جھول بھر کر نہ لے جائے لیکن مالک کی مرضی کے بغیر پھل نہ توڑے۔