(١٩٦٥٣) فَمِنْہَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلاً مِنْ مُزَیْنَۃَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الضَّالَّۃِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ ثُمَّ سَأَلَہُ عَنِ الثِّمَارِ یُصِیبُہُ الرَّجُلُ قَالَ : مَا أَخَذَ فِی أَکْمَامِہِ یَعْنِی رُئُوسَ النَّخْلِ فَاحْتَمَلَہُ فَثَمَنُہُ وَمِثْلُہُ مَعَہُ وَضَرْبُ نَکَالٍ وَمَا کَانَ فِی أَجْرَانِہِ فَأَخَذَ فَفِیہِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ ذَلِکَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ وَإِنْ أَکَلَ بِفِیہِ وَلَمْ یَأْخُذْ فَیَتَّخِذْ خُبْنَۃً فَلَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ۔ وَہَذَا إِنْ صَحَّ فَمَحْمُولٌ عَلَی أَنَّ لَیْسَ عَلَیْہِ فِیہِ قَطْعٌ حِینَ لَمْ یُخْرِجْہُ مِنَ الْحِرْزِ ۔ [حسن ]
(١٩٦٥٣) مزینہ قبیلے کے ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جو باغ کے پھل توڑ لیتا ہے، فرمایا : جس نے کھجور سے توڑ کر ساتھ لے لیا تو اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی اور عبرت ناک سزا دینا ہوگی۔ جس نے ڈھیر سے اٹھا لیا۔ اگر وہ ڈھال کی قیمت جتنا ہوا تو ہاتھ کاٹا جائے گا، لیکن اگر اس نے صرف کھایا ساتھ نہیں لیا اس پر کوئی حد نہیں۔ یہ تب ہے جب وہ محفوظ چیز کو اٹھائے لیکن یہ صورت حال نہ ہو تب قطع ید نہیں ہے۔