(١٩٦٥٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ وَإِنَّمَا یُوَجَّہُ ہَذَا الْحَدِیثُ یَعْنِی حَدِیثَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ حَدِیثُ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ فِی الرُّخْصَۃِ أَنَّہُ رَخَّصَ فِیہِ لِلْجَائِعِ الْمُضْطَرِّ الَّذِی لاَ شَیْئَ مَعَہُ یَشْتَرِی بِہِ وَہُوَ مُفَسَّرٌ فِی حَدِیثٍ آخَرَ حَدَّثَنَاہُ الأَنْصَارِیُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : رَخَّصَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِلْجَائِعِ الْمُضْطَرِّ إِذَا مَرَّ بِالْحَائِطِ أَنْ یَأْکُلَ مِنْہُ وَلاَ یَتَّخِذْ خُبْنَۃً ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : وَمِمَّا یُبَیِّنُ ذَلِکَ حَدِیثُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الأَنْصَارِ الَّذِینَ مَرُّوا بِحَیٍّ مِنَ الْعَرَبِ فَسَأَلُوہُمُ الْقِرَی فَأَبَوْا فَسَأَلُوہُمُ الشِّرَی فَأَبَوْا فَضَبَطُوہُمْ فَأَصَابُوا مِنْہُمْ فَأَتَوْا عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لَہُ فَہَمَّ بِالأَعْرَابِ وَقَالَ : ابْنُ السَّبِیلِ أَحَقُّ بِالْمَائِ مِنَ التَّانِئِ عَلَیْہِ ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنَاہُ حَجَّاجٌ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ الثَّقَفِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ عُمَرَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ فَہَذَا مُفَسَّرٌ إِنَّمَا ہُوَ لِمَنْ لَمْ یَقْدِرْ عَلَی قِرَی وَلاَ شِرَی وَکَذَلِکَ قَالَ فِی الْحَدِیثِ الأَوَّلِ : لِیُصَوِّتْ یَا رَاعِیَ الإِبِلِ ثَلاَثًا ۔ لِیَکُونَ طَلَبَ الْقِرَی قَبْلُ ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَفِی مِثْلِ ہَذَا مَا أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمَخْزُومِیُّ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَوَّلٍ الْبَہْزِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ الإِبِلُ نَلْقَاہَا وَنَحْنُ مُحْتَاجُونَ وَہِیَ مُصَرَّاۃٌ قَالَ : تُنَادِی یَا صَاحِبَ الإِبِلِ ثَلاَثًا فَإِنْ أَجَابَکَ وَإِلاَّ فَاحْلِبْ ثُمَّ دَعْ لِلَّبَنِ دَوَاعِیَہُ ۔ زَادَ فِیہِ غَیْرُہُ : وَاحْلِبْ ثُمَّ صَرِّ وَبَقِّ لِلَّبَنِ دَوَاعِیَہُ ۔ [صحیح ]
(١٩٦٥٧) عمر بن خطاب، عمرو بن شعیب کی احادیث میں رخصت ہے، ایسا انسان جو کچھ خرید نہیں سکتا اس کے باے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب باغ کے پاس سے گزرے تو کھالے لیکن جھولی بھر کر نہ لے جائے۔ حضرت عمر (رض) کی حدیث میں ہے کہ انصار ایک عرب قبیلہ کے پاس سے گزرے، جب ان سے مہمانی کا مطالبہ کیا تو انھوں نے انکار کردیا۔ انھوں نے ان سے کچھ مال لے لیا۔ انھوں نے حضرت عمر (رض) کو بتایا تو انھوں نے دیہاتی لوگوں کا قصد کیا اور فرمایا : مسافر لوگ جس پانی کے چشمہ پر واقع ہوں اس کے زیادہ حق دار ہوتے ہیں۔ ابو عبید نے اس کی تفسیر یہ بیان کی، جو مہمان نوازی اور کچھ خریدنے کی طاقت نہ رکھے۔ وہ چرواہے کو تین آوازیں لگائے تاکہ وہ اس سے مہمانی کا مطالبہ کرسکے۔
شیخ فرماتے ہیں : قاسم بن مخول اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : ہم اونٹوں سے ملتے ہیں ہمیں دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ انھوں نے دودھ روکا ہوتا ہے تو چرواہے کو تین آوازیں دو ۔ اگر جواب ملے تو درست وگرنہ دودھ دوہ لیا کرو۔ پھر دوہنے والوں کے لیے چھوڑ دیا کرو۔ پھر دودھ اور دودھ روک دے تاکہ چرواہے دودھ دوہ سکیں۔