(١٩٦٦٦) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْہَبِ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی سَفَرٍ إِذْ جَائَ رَجُلٌ عَلَی رَاحِلَۃٍ فَجَعَلَ یَصْرِفُہَا یَمِینًا وَشِمَالاً فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: مَنْ کَانَ عِنْدَہُ فَضْلٌ مِنْ ظَہْرٍ فَلْیَعُدْ بِہِ عَلَی مَنْ لاَ ظَہْرَ لَہُ وَمَنْ کَانَ عِنْدَہُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ فَلْیَعُدْ بِہِ عَلَی مَنْ لاَ زَادَ لَہُ ۔ وَذَکَرَ أَصْنَافَ الأَمْوَالِ حَتَّی رَأَیْنَا أَنَّہُ لاَ حَقَّ لأَحَدٍ مِنَّا فِی فَضْلٍ عِنْدَہُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ عَنْ أَبِی الأَشْہَبِ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٢٨]
(١٩٦٦٦) ابوسعید (رض) فرما فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ اچانک ایک آدمی اونٹ پر سوار آیا وہ دائیں بائیں گھوم رہا تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کے پاس زائد سواری ہو، وہ اسے دے دے، جس کے پاس سواری نہیں ہے اور جس کے پاس زائد زادہ راہ ہو، وہ اس کو دے دے جس کے پاس نہیں ہے۔ اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال کی اقسام ذکر کیں تو ہم نے خیال کیا کہ زائد مال میں ہمارا کوئی حق ہی نہیں۔