(١٩٦٦٩) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِی عَوْنٍ الثَّقَفِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی قَالَ : سَافَرَ نَاسٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَأَرْمَلُوا فَأَتَوْا عَلَی حَیٍّ مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ فَسَأَلُوہُمْ الْقَرَی أَوِ الشَّرَی فَأَبَوْا فَضَبَطُوہُمْ فَأَصَابُوا مِنْہُمْ فَذَہَبَتِ الأَعْرَابُ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَشْفَقَتِ الأَنْصَارُ مِنْ ذَلِکَ فَہَمَّ بِہِمْ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَالَ : تَمْنَعُونَ ابْنَ السَّبِیلِ مَا یُخْلِفُ اللَّہُ فِی ضُرُوعِ الإِبِلِ وَالْغَنَمِ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ ابْنُ السَّبِیلِ أَحَقُّ بِالْمَائِ مِنَ التَّانِئِ عَلَیْہِ ۔
ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ سُلَیْمَانَ وَفِی رِوَایَۃِ یَحْیَی بْنِ آدَمَ أَنَّ قَوْمًا مِنَ الأَنْصَارِ أَرْمَلُوا فَمَرُّوا بِقَوْمٍ مِنَ الأَعْرَابِ فَسَأَلُوہُمُ الشِّرَائَ فَأَبَوْا وَسَأَلُوہُمُ الْقَرَی فَأَبَوْا فَضَبَطُوہُمْ وَاحْتَلَبُوا قَالَ فَقَالَ عُمَرُ : تَمْنَعُونَ ابْنَ السَّبِیلِ مَا یُخْلِفُ اللَّہُ فِی ضُرُوعِ الْمَوَاشِی بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ ثُمَّ قَالَ ابْنُ السَّبِیلِ أَحَقُّ بِالْمَائِ مِنَ التَّانِئِ عَلَیْہِ ۔ [ضعیف ]
(١٩٦٦٩) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ انصار کے لوگوں نے سفر کیا، وہ ایک عرب قبیلے کے پاس سے گذرے تو ان سے مہمان نوازی کا سوال کیا تو انھوں نے انکار کردیا۔ انھوں نے ان کو پکڑ کر تکلیف بھی دی۔ دیہاتی حضرت عمر کے پاس آے تو انصاری ڈر گئے۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو تکلیف دینے کا قصد کیا اور فرمایا : تم مسافروں سے اونٹوں، بکریوں کے دودھ رات اور دن کے وقت روکتے ہو۔ حالانکہ مسافر پانی کا زیادہ حق دار ہے، جس پر وہ واقع ہوتا ہے۔ یحییٰ بن آدم کی روایت میں ہے کہ انصاری ایک دیہات کے قریب سے گزرے۔ انھوں نے مہمانی کا سوال کیا تو انھوں نے انکار کردیا۔ لیکن انھوں نے زبردستی دودھ دھو لیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم دن اور رات کے اوقات میں جانوروں کے دودھ جو اللہ پیدا کرتا ہے روک لیتے ہو۔ مسافر تو پانی کا زیادہ حق دار ہے جو صبر کرنے والا ہے۔