(١٩٧٠١) وَرَوَاہُ عُمَرُ بْنُ مُوسَی بْنِ وَجِیہٍ وَہُو ضَعِیفٌ عَنْ وَاصِلِ بْنِ أَبِی جَمِیلٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ یَکْرَہُ أَکْلَ سَبْعٍ مِنَ الشَّاۃِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا وَقَّارُ بْنُ الْحُسَیْنِ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ الْوَزَّانُ حَدَّثَنَا فِہْرُ بْنُ بَشِیرٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُوسَی فَذَکَرَہُ مَوْصُولاً وَلاَ یَصِحُّ وَصْلُہُ ۔
(ق) قَالَ أَبُو سُلَیْمَانَ الْخَطَّابِیُّ فِیمَا بَلَغَنِی عَنْہُ : الدَّمُ حَرَامٌ بِالإِجْمَاعِ وَعَامَّۃُ الْمَذْکُورَاتِ مَعَہُ مَکْرُوہَۃٌ غَیْرُ مُحَرَّمَۃٍ ۔ [ضعیف ]
(١٩٧٠١) مجاہد ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سات چیزیں بکری سے ناپسند فرماتے تھے، اس طرح انھوں نے حدیث ذکر کی ہے۔
ابوسلیمان خطابی فرماتے ہیں کہ خون تو بالاجماع حرام ہے، لیکن باقی اشیاء مکروہ ہیں۔