hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 19712

.

سنن البيهقي

19712
Sunan Al Bayhaqi
(١٩٧٠٦) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْرَفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی حُمَیْدٍ عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اعْمَلُوا بِالْقُرْآنِ أَحِلُّوا حَلاَلَہُ وَحَرِّمُوا حَرَامَہُ وَاقْتَدُوا بِہِ وَلاَ تَکْفُرُوا بِشَیْئٍ مِنْہُ وَمَا تَشَابَہَ عَلَیْکُمْ مِنْہُ فَرُدُّوہُ إِلَی اللَّہِ وَإِلَی أُولِی الْعِلْمِ مِنْ بَعْدِی کَمَا یُخْبِرُوکُمْ وَآمِنُوا بِالتَّوْرَاۃِ وَالإِنْجِیلِ وَالزَّبُورِ وَمَا أُوتِیَ النَّبِیُّونَ مِنْ رَبِّہِمْ وَلْیَسَعْکُمُ الْقُرْآنُ وَمَا فِیہِ مِنَ الْبَیَانِ فَإِنَّہُ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ وَمَاحِلٌ مُصَدَّقٌ أَلاَ وَلِکُلِّ آیَۃٍ نُورٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَإِنِّی أُعْطِیتُ سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ مِنَ الذِّکْرِ الأَوَّلِ وَأُعْطِیتُ طَہَ وَطَوَاسِینَ وَالْحَوَامِیمَ مِنْ أَلْوَاحِ مُوسَی وَأُعْطِیتُ فَاتِحَۃَ الْکِتَابِ مِنْ تَحْتَ الْعَرْشِ ۔ (ج) عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی حُمَیْدٍ تَکَلَّمُوا فِیہِ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَأَحَلَّ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ طَعَامَ أَہْلِ الْکِتَابِ فَکَانَ ذَلِکَ عِنْدَ أَہْلِ التَّفْسِیرِ ذَبَائِحَہُمْ لَمْ یَسْتَثْنِ مِنْہَا شَیْئًا فَلاَ یَجُوزُ أَنْ تَحِلَّ ذَبِیحَۃُ کِتَابِیٍّ وَفِی الذَّبِیحَۃِ حَرَامٌ عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ مِمَّا کَانَ حُرِّمَ عَلَی أَہْلِ الْکِتَابِ قَبْلَ مُحَمَّدٍ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ [ضعیف ]
(١٩٧٠٦) معقل بنیسار (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم قرآن پر عمل کرو، اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام جانو اور تم اس کی اقتدا کرو اور تم اس میں سے کسی چیز کا انکار نہ کرو اور جو چیز اس میں سے تم پر مشتبہہو جائے تو اس کو اللہ کی طرف لوٹا دو اور میرے بعد علم والوں کی طرف جو تمہیں خبر دیں اور تم توراۃ ، انجیل، زبور، اور جو انبیاء اپنے رب کی طرف سے دیے گئے ان پر ایمان رکھو اور تمہیں قرآن اور جو کچھ اس میں ہے کافی ہے۔ کیونکہ وہ ایسا سفارشی ہے جس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور اس کی حلال چیزوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ خبردار ! ہر آیت قیامت کے دن نور ہوگی اور میں سورة بقرہ پہلے ذکر میں سے دیا گیا ہوں اور میں طہٰ اور وہ سورتیں جن کے شروع میں ط سین اور حم وغیرہ آتا ہے اور میں سورة فاتحہ عرش کے نیچے سے دیا گیا ہوں۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اللہ نے اہل کتاب کا کھانا حلال قرار دیا۔ اہلِ تفسیر تو ان کے ذبیحہ میں سے کسی کو مستثنیٰ بھی قرار نہیں دیتے۔ لیکن اہل کتاب کا ذبیح جائز نہیں ہے اور وہ ذبیحہ ہر مسلم پر حرام ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے اہل کتاب پر حرام تھا۔