(١٩٧١٣) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَنْبَأَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدِّمَشْقِیُّ وَلَقَبُہُ دُحَیْمٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَیْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ ہَانِئٍ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ عَنْ أَبِی ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُلْتُ أَیْ رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَرْمِی بِقَوْسِی فَمِنْہُ مَا أُدْرِکُ ذَکَاتَہُ وَمِنْہُ مَا لاَ أُدْرِکُ فَمَاذَا یَحِلُّ لِی وَمَا یَحْرُمُ عَلَیَّ إِنَّا فِی أَرْضِ أَہْلِ الْکِتَابِ وَہُمْ یَأْکُلُونَ فِی آنِیَتِہِمُ الْخِنْزِیرَ وَیَشْرَبُونَ فِیہَا الْخَمْرَ فَنَأْکُلُ فِیہَا وَنَشْرَبُ ۔ قَالَ : کُلْ مَا رَدَّ عَلَیْکَ قَوْسُکَ وَذَکَرْتَ اسْمَ اللَّہِ فَکُلْ وَإِنْ وَجَدْتَ عَنْ آنِیَۃِ أَہْلِ الْکِتَابِ غِنًی فَلاَ تَأْکُلُ وَإِنْ لَمْ تَجِدْ عَنْہَا غِنًی فَارْحَضُوہَا بِالْمَائِ رَحْضًا شَدِیدًا ثُمَّ کُلُوا فِیہَا ۔
وَفِی ہَذَا دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الأَمْرَ بِالْغُسْلِ إِنَّمَا وَقَعَ عِنْدَ الْعِلْمِ بِنَجَاسَتِہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [صحیح ]
(١٩٧١٣) ابو ثعلبہخشنیٰ (رض) فرماتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں شکار پر تیر پھینکتا ہوں تو بعض شکار پکڑ کر ذبح کرلیتا ہوں اور بعض نہیں ملتے۔
میرے لیے حلال کیا ہے اور حرام کیا ؟ ہم اہل کتاب کی زمین میں رہتے ہیں، وہ اپنے برتنوں میں خنزیر کا گوشت کھاتے اور شراب پیتے ہیں۔ کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا پی لیا کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو تیرا تیر تجھے واپس کر دے اور تو ذبح کرلے تو اس کو کھالو۔ اگر آپ کو اہل کتاب کے برتنوں کی ضرورت نہ ہو تو پھر نہ کھاؤ۔ اگر ضرورت پڑ ہی جائے تو پانی سے خوب اچھی طرح صاف کرلو ، بعد میں ان میں کھالو۔