(١٩٧٢١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ عَنْ مَالِکٍ قَالَ سَمِعْتُہُ وَسُئِلَ عَنْ بَیْعِ الْمَدَرِ الَّذِی یَأْکُلُ النَّاسُ فَقَالَ مَا یُعْجِبُنِی ذَلِکَ أَنْ یَبِیعَ مَا یَضُرُّ النَّاسَ فِی دِینِہِمْ وَدُنْیَاہُمْ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { یَسْأَلُونَکَ مَاذَا أُحِلَّ لَہُمْ قُلْ أُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ } [المائدۃ ٤] قَالَ مَالِکٌ وَأَرَی لِصَاحِبِ السُّوقِ أَنْ یَمْنَعَہُمْ عَنْ بَیْعِ ذَلِکَ وَیَنْہَی عَنْہُ وَقَالَ مَالِکٌ وَہُوَ أَیْضًا مِنْ بَابِ السَّفَہِ ۔ [صحیح۔ مالک ]
(١٩٧٢١) عبداللہ بن وہب فرماتے ہیں کہ امام مالک سے مٹی کی فروخت کے بارے میں سوال کیا گیا اور جو لوگ کھاتے ہیں تو فرمایا : مجھے اچھا نہیں لگتا کہ لوگوں کو جو چیز ان کے دین ودنیا میں نقصان دے اس کو فروخت کیا جائے۔ اللہ فرماتے ہیں : { یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَآ اُحِلَّ لَھُمْ قُلْ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ } [المائدۃ ٤] ” وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا۔ کہہ دیجیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی۔ “
امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ بازار والوں کو اس کی بیع سے منع کردیا گیا تو وہ رک گئے۔