(۱۹۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ أَدْرَکْتُ إِبْرَاہِیمَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی مَحْذُورَۃَ یُؤَذِّنُ کَمَا حَکَی ابْنُ مُحَیْرِیزٍ یَعْنِی بِالتَّرْجِیعِ ، قَالَ وَسَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ عَنْ أَبِی مَحْذُورَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مَعْنَی مَا حَکَی ابْنُ جُرَیْجٍ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ: وَسَمِعْتُہُ یُقِیمُ فَیَقُولُ: اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ ، اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَحَسِبْتُنِی سَمِعْتُہُ یَحْکِی الإِقَامَۃَ خَبَرًا کَمَا یَحْکِی الأَذَانَ۔
وَفِی رِوَایَۃِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیِّ عَنِ الشَّافِعِیِّ فِی مَسْأَلَۃِ کَیْفِیَّۃِ الأَذَانِ وَالإِقَامَۃِ قَالَ الشَّافِعِیُّ: الرِّوَایَۃُ فِیہِ تَکَلُّفُ الأَذَانِ خَمْسَ مَرَّاتٍ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ فِی الْمَسْجِدَیْنِ عَلَی رُئُوسِ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ وَمُؤَذِّنُو مَکَّۃَ آلُ أَبِی مَحْذُورَۃَ ، وَقَدْ أَذَّنَ أَبُو مَحْذُورَۃَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَعَلَّمَہُ الأَذَانَ ، ثُمَّ وَلَدُہُ بِمَکَّۃَ وَأَذَّنَ آلُ سَعْدٍ الْقَرَظِ مُنْذُ زَمَنِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِالْمَدِینَۃِ ، وَزَمَنِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کُلُّہُمْ یَحْکُونَ الأَذَانَ وَالإِقَامَۃَ وَالتَّثْوِیبَ وَقْتَ الْفَجْرِ کَمَا قُلْنَا ، فَإِنْ جَازَ أَنْ یَکُونَ ہَذَا غَلَطًا مِنْ جَمَاعَتِہِمْ وَالنَّاسُ بِحَضْرَتِہِمْ وَیَأْتِینَا مِنْ طَرَفِ الأَرْضِ مَنْ یُعَلِّمُنَا جَازَ لَہُ أَنْ یَسْأَلَنَا عَنْ عَرَفَۃَ وَعَنْ مِنًی ثُمَّ یُخَالِفُنَا ، وَلَوْ خَالَفَنَا فِی الْمَوَاقِیتِ کَانَ أَجْوَزَ لَہُ فِی خِلاَفِنَا مِنْ ہَذَا الأَمْرِ الظَّاہِرِ الْمَعْمُولِ بِہِ۔ [صحیح]
(١٩٧٣) (الف) امام شافعی (رح) کہتے ہیں میں نے اس سے سنا ہے وہ اقامت کہتا تھا پس وہ کہتا تھا اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَۃُ ، اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔
(ب) حسن بن محمد بن صباح کی روایت جو امام شافعی (رح) سے اذان اور اقامت کی کیفیت کے متعلق ہے اس میں امام صاحب فرماتے ہیں : وہ روایت جس میں ہے کہ مسجدوں میں دن رات پانچ مرتبہ مہاجرین و انصار اذان کے مکلف تھے اور مکہ میں آل ابو محذورہ مؤذن تھے۔ سیدنا ابو محذورہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اذان کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں سکھائی۔ پھر سیدنا ابو محذورہ کی اولاد مکہ میں اور سعد قرظ کی اولاد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں مدینہ میں اذان کہتی رہی۔ اسی طرح خلافت ابوبکر (رض) میں۔ وہ سب اذان کا طریقہ بیان کرتے ہیں اور فجر میں الصَّلاَۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ کہنا۔ جیسے ہم نے بیان کیا۔ اگر ان لوگوں سے اس کا غلط ہونے کا جواز ہے تو لوگ ان کے پاس آتے جاتے رہتے تھے اور ہمارے پاس بھی مختلف علاقوں سے آتے تھے جو ہمیں سکھلاتے۔ ان کے لیے جائز تھا کہ وہ عرفہ اور منٰی والوں سے پوچھتے اور ہماری مخالفت کرتے۔ اگر وہ مواقیت میں ہماری مخالفت کرتے تو اس معاملے میں جو معمول بہ ہے اس میں اختلاف کا زیادہ جواز تھا۔