(۱۹۷۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِیدٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْبُوشَنْجِیُّ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنُ عَائِشَۃَ قَالَ أَہْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ إِنَّمَا نُہِیَ عَنِ الْقَوْسِ الْفَارِسِیَّۃِ لأَنَّہَا إِذَا انْقَطَعَ وَتَرُہَا لَمْ یَنْتَفِعْ بِہَا صَاحِبُہَا وَإِنَّ الْقَوْسَ الْعَرَبِیَّۃَ إِذَا انْقَطَعَ وَتَرُہَا کَانَتْ لَہُ عَصًا یَدُبُّ بِہَا قَالَ وَکَانَتْ مَعَہُمْ رِمَاحُ خَشَبٍ فَکَانُوا إِذَا طَعَنُوا بِہَا أَخَذَہَا الْمَطْعُونُ فَکَسَرَہَا فَأَمَرَہُمْ بِرِمَاحِ الْقَنَا لِکَیْ إِذَا طَعَنَ الرَّجُلُ فَأَخَذَہُ الْمَطْعُونُ انْثَنَی وَلَمْ یَنْکَسِرْ وَکَانَتْ تُحْمَلُ مِنَ الْبَحْرَیْنِ۔ [حسن]
(١٩٧٣٧) ابوعبدالرحمن ابن عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب فارسی کمان کی تندی ٹوٹ جائے تو اس کا صاحب اس سے فائدہ نہیں اٹھاسکتا۔ لیکن جب عربی کمان کی تندی ٹوٹ جائے تو وہ اس کے سہارے چلنے کا کام لیتا ہے، ان کے پاس لکڑی کے نیزے ہوتے تھے۔ جب مارا جاتا تو دوسرا پکڑ کر اس کو توڑ دیتا، لیکن آپ نے ایسے نیزوں کا مطالبہ کیا جو دوہرا تو ہوجائے لیکن ٹوٹے نہ۔