hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 19751

.

سنن البيهقي

19751
Sunan Al Bayhaqi
(۱۹۷۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِی صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : الْخَیْلُ ثَلاَثَۃٌ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَعَلَی رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِی ہُوَ لَہُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَہَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَأَطَالَ لَہَا فِی مَرْجٍ أَوْ رَوْضَۃٍ فَمَا أَصَابَتْ فِی طِیَلِہَا ذَلِکَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَۃِ کَانَتْ لَہُ حَسَنَاتٌ وَلَوْ أَنَّہَا قَطَعَتْ طِیَلَہَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَیْنِ کَانَتْ آثَارُہَا وَأَرْوَاثُہَا حَسَنَاتٍ لَہُ وَلَوْ أَنَّہَا مَرَّتْ بِنَہَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْہُ وَلَمْ یُرِدْ أَنْ یَسْقِیَہَا کَانَ ذَلِکَ حَسَنَاتٍ لَہُ وَرَجُلٌ رَبَطَہَا تَغَنِّیًا وَتَعَفُّفًا وَسِتْرًا ثُمَّ لَمْ یَنْسَ حَقَّ اللَّہِ فِی رِقَابِہَا وَلاَ ظُہُورِہَا فَہِیَ لِذَلِکَ سِتْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَہَا فَخْرًا وَرِئَائً وَنِوَائً لأَہْلِ الإِسْلاَمِ فَہِیَ عَلَی ذَلِکَ وِزْرٌ ۔ وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الْحُمُرِ فَقَالَ : ما أُنْزِلَ عَلَیَّ فِیہَا شَیْء ٌ إِلاَّ ہَذِہِ الآیَۃُ الْجَامِعَۃُ الْفَاذَّۃُ {فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہُ وَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہُ} [الزلزلۃ ۷-۸] رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٩٧٤٥) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گھوڑے تین قسم کے ہیں : 1 آدمی کے لیے اجر کا باعث 2 آدمی کے لیے پردہ ہے 3 آدمی پر بوجھ ہے۔ وہ گھوڑا جو آدمی کے لیے اجر کا باعث ہے انسان اس کو اللہ کے راستہ میں باندھتا ہے، اس کی رسی چراگاہ یا باغ میں لمبی کردیتا ہے۔ وہ رسی کی لمبائی تک چراگاہ اور باغیچہ سے کھاتا ہے تو اس کی نیکیاں اس آدمی کو ملتی ہیں۔ اگر اس کی وہ رسی ٹوٹ جاتی ہے تو اس کے نشانات قدم اور گوبر کا بھی اس کو ثواب ملے گا۔ اگر وہ شہر سے گذرتے ہوئے پانی پی لیتا ہے جس کا اس نے قصد نہیں کیا تو اس کے لیے نیکیاں ہوں گی۔ جس نے گھوڑا باندھا بےنیازہو کر پاکدامنی اور پردہ کے لیے۔ پھر وہ اس میں اللہ کا حق اس کی گردن اور پیٹ میں نہیں بھرتا تو یہ اس کے لیے پردہ ہے۔ جس نے گھوڑا رکھا فخر و ریاکاری کے لیے اور اہل اسلام کی مشقت کے لیے تو یہ اس کے لیے وبال اور بوجھ ہوگا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گدھوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے بارے میں ایک جامع آیت نازل ہوئی ہے : { فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ۔ }