(۱۹۷۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ : عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مَنْصُورٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَتْ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- نَاقَۃٌ تُسَمَّی الْعَضْبَائُ لاَ تُسْبَقُ فَجَائَ أَعْرَابِیُّ عَلَی قَعُودٍ لَہُ فَسَبَقَہَا فَشَقَّ ذَلِکَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ فَلَمَّا رَأَی مَا فِی وُجُوہِہِمْ قَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ سُبِقَتِ الْعَضْبَائُ قَالَ : إِنَّ حَقًّا عَلَی اللَّہِ أَنْ لاَ یَرْفَعَ شَیْئًا مِنَ الدُّنْیَا إِلاَّ وَضَعَہُ ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ حُمَیْدٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۸۷۱]
(١٩٧٥٣) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی عضباء تھی، وہ کبھی ہاری نہ تھی، لیکن ایک دیہاتی کا اونٹ اس سے سبقت لے گیا تو مسلمانوں کو یہ بات پسند نہ آئی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے چہروں میں ناپسندیدگی دیکھی۔ ایک شخص نے کہہ بھی دیا : اے اللہ کے رسول ! عضباء ہار گئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کا یہ قانون ہے جس کو وہ دنیا میں عروج دیتا ہے۔ اس پر زوال بھی آتا ہے۔