(۱۹۷۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّبْغِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی أَخِی عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مَرَّ عَلَی نَاسٍ مِنْ أَسْلَمَ یَتَنَاضَلُونَ قَالَ : حَسَنٌ ۔ لِہَذَا اللَّہْوِ مَرَّتَیْنِ : ارْمُوا فَإِنَّہُ کَانَ لَکُمْ أَبٌ یَرْمِی ارْمُوا وَأَنَا مَعَ ابْنِ الأَدْرَعِ ۔ قَالَ فَأَمْسَکَ الْقَوْمُ أَیْدِیَہُمْ فَقَالَ : مَا لَکُمْ؟ ۔ فَقَالُوا لاَ وَاللَّہِ لاَ نَرْمِی وَأَنْتَ مَعَہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِذًا یَنْضُلَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ارْمُوا وَأَنَا مَعَکُمْ جَمِیعًا ۔ قَالَ فَقَالَ رَمَوُا عَامَّۃَ یَوْمِہِمْ ثُمَّ تَفَرَّقُوا عَلَی السَّوَائِ مَا نَضَلَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا۔ [ضعیف]
(١٩٧٥٥) محمد بن ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسلم قبیلہ کے لوگوں کے پاس سے گزرے۔ وہ تیر اندازی کر رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اچھا ہے دو مرتبہ کہا۔ تم تیر اندازی کرو کیونکہ تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا۔ تم تیر اندازی کرو۔ میں ابن ادرع کے ساتھ ہوں تو لوگوں نے بھی اپنے ہاتھ روک لیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہم تیر اندازی نہیں کریں گے، جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فلاں کے ساتھ ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم تیر اندازی کرو، میں تمہارے سب کے ساتھ ہوں۔ راوی فرماتے ہیں کہ انھوں نے اس دن عام تیر اندازی کی۔ پھر وہ بکھر گئے۔ انھوں نے آپس میں تیر اندازی نہیں کی۔