(۱۹۷۶۱) وَرَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ بِالْبَطْحَائِ فَأَتَی عَلَیْہِ یَزِیدُ بْنُ رُکَانَۃَ أَوْ رُکَانَۃُ بْنُ یَزِیدَ وَمَعَہُ أَعْنُزٌ لَہُ فَقَالَ لَہُ یَا مُحَمَّدُ ہَلْ لَکَ أَنْ تُصَارِعَنِی فَقَالَ : مَا تُسْبِقْنِی ۔ قَالَ شَاۃً مِنْ غَنَمِی فَصَارَعَہُ فَصَرَعَہُ فَأَخَذَ شَاۃً قَالَ رُکَانَۃُ ہَلْ لَکَ فِی الْعُودِ قَالَ : مَا تُسْبِقْنِی؟ قَالَ أُخْرَی ذَکَرَ ذَلِکَ مِرَارًا فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ وَاللَّہِ مَا وَضَعَ أَحَدٌ جَنْبِی إِلَی الأَرْضِ وَمَا أَنْتَ الَّذِی تَصْرَعُنِی یَعْنِی فَأَسْلَمَ وَرَدَّ عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- غَنَمَہُ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُ وَہُوَ مُرْسَلٌ جَیِّدٌ وَقَدْ رُوِیَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَوْصُولاً إِلاَّ أَنَّہُ ضَعِیفٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(١٩٧٦١) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بطحاء نامی جگہ پر تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یزید بن رکانہ یا رکانہ بن یزید آیا۔ اس کے پاس بکریاں بھی تھیں۔ اس نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ میرے ساتھ کشتی کریں گے ؟ آپ نے فرمایا : اگر ہار گئے تو کیا دو گے ؟ کہنے لگا : ایک بکری۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کشتی کی تو اس کو گرا دیا اور ایک بکری لے لی۔ رکانہ کہتا ہے : دوبارہ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر ہار گئے تو کیا دو گے۔ کہتا ہے : دوسری بکری۔ کئی مرتبہ ایسے ہوا۔ کہنے لگا : اے محمد ! میری کمر کسی نے زمین پر نہیں لگائی، یعنی گرا نہیں، لیکن آپ نے تو مجھے گرا دیا۔ وہ مسلمان ہوگیا تو آپ نے اس کی بکریاں واپس کردیں۔