(۱۹۷۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّائُ أَنْبَأَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ الَّذِینَ یُنْتَہَی إِلَی قَوْلِہِمْ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ : الرِّہَانُ فِی الْخَیْلِ جَائِزٌ إِذَا أُدْخِلَ فِیہَا مُحَلِّلٌ إِنْ سَبَقَ أَخَذَ وَإِنْ سُبِقَ لَمْ یَغْرَمْ شَیْئًا وَیَنْبَغِی أَنْ یَکُونَ الْمُحَلِّلُ شَبِیہًا بِالْخَیْلِ فِی النَّجَائِ وَالْجَوْدَۃِ۔ [ضعیف]
(١٩٧٧٣) ابن ابی الزناد اپنیوالد سے جو فقہاء سے بیان کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں : گھوڑدوڑ میں شرط لگانا جائز ہے، جب کوئی تیسرا گھوڑا شامل کیا جائے۔ اگر وہ جیت جائے تو شرط کی رقم وصول کرے گا۔ اگر ہار گیا تو اس پر چٹی نہ ڈالی جائے گی اور یہ تیسرا گھوڑا ایسے گھوڑے کے مشابہ ہے جو رہائی دلانے والا ہے۔