(۱۹۷۸۷) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی زُرْعَۃَ
(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ وَہُوَ ابْنُ أَبِی زُرْعَۃَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قِیلَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- أَنُنْزِی الْحِمَارَ عَلَی الْفَرَسِ قَالَ : إِنَّمَا یَعْمَلُ ذَلِکَ الَّذِینَ لاَ یَعْلَمُونَ ۔ ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی دَاوُدَ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ الصَّبَّاحِ قَالَ : أُہْدِیَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- بَغْلَۃٌ أَوْ بَغْلٌ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا ہَذَا؟ قَالَ : بَغْلٌ أَوْ بَغْلَۃٌ یُنْزَی الْحِمَارُ عَلَی الْفَرَسِ فَیَخْرُجُ ہَذَا مِنْ بَیْنِہِمَا ۔ فَقُلْتُ : نُنْزِی فُلاَنًا عَلَی فُلاَنَۃَ قَالَ : إِنَّمَا یَفْعَلُ ذَلِکَ الَّذِینَ لاَ یَعْلَمُونَ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٩٧٨٧) علی بن علقمہ حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا ہم گدھے کو گھوڑی پر چھوڑ دیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا وہ کرتے ہیں جو جانتے نہیں ہیں۔
(ب) ابن صباح کی روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خچر یاخچریتحفہ میں دی گئی۔ میں نے کہا : یہ کیا ہے اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خچر یا خچری۔ گدھے کو گھوڑی پر جفتی کے لیے چھوڑا جاتا ہے تو اس سے یہ پیدا ہوتا ہے۔ میں نے کہا : کیا ہم فلاں (گدھے) کو (فلانہ) گھوڑی پر چھوڑ دیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو جانتے نہیں۔