(۱۹۸۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ سَابِقٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : جَائَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : مَا الْکَبَائِرُ؟ قَالَ : الإِشْرَاکُ بِاللَّہِ ۔ قَالَ : ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ : ثُمَّ عُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ ۔ قَالَ : ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ : ثُمَّ الْیَمِینُ الْغَمُوسُ ۔ قَالَ فَقُلْتُ لِعَامِرٍ : مَا الْیَمِینُ الْغَمُوسُ؟ قَالَ : الَّذِی یَقْتَطِعُ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِیَمِینِہِ وَہُوَ فِیہَا کَاذِبٌ۔
[صحیح۔ بخاری ۶۶۷۵۔ ۶۹۲۰]
(١٩٨٦٨) عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں : ایک دیہاتی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : کبیرہ گناہ کیا ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے ساتھ شرک کرنا پوچھا : پھر کیا ؟ فرمایا : والدین کی نافرمانی کرنا۔ پوچھا : پھر کونسا ؟ فرمایا : جھوٹی قسم ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عامر سے کہا : جھوٹی قسم کیا ہے ؟ فرمایا : جھوٹی قسم کے ذریعے مسلمان کا مال ہڑپ کرنا۔