hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 19890

.

سنن البيهقي

19890
Sunan Al Bayhaqi
(۱۹۸۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ کَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ إِنِّی رَأَیْتُ اللَّیْلَۃَ ظُلَّۃً یَنْطِفُ مِنْہَا السَّمْنُ وَالْعَسَلُ فَأَرَی النَّاسَ یَتَکَفَّفُونَ فِی أَیْدِیہِمْ فَالْمُسْتَکْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَرَی سَبَبًا وَاصِلاً مِنَ السَّمَائِ إِلَی الأَرْضِ فَأَرَاکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَخَذْتَ بِہِ فَعَلَوْتَ ثُمَّ أَخَذَ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ ثُمَّ أَخَذَ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ ثُمَّ أَخَذَ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ بِہِ ثُمَّ وُصِلَ لَہُ فَعَلاَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَیْ رَسُولَ اللَّہِ بِأَبِی أَنْتَ وَاللَّہِ لَتَدَعَنِّی فَلأَعْبُرَہَا فَقَالَ اعْبُرْہَا فَقَالَ أَمَّا الظُّلَّۃُ فَظُلَّۃُ الإِسْلاَمِ وَأَمَّا التَّنَطُّفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَہُوَ الْقُرْآنُ وَلِینُہُ وَحَلاَوَتُہُ وَأَمَّا الْمُسْتَکْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ فَہُوَ الْمُسْتَکْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ مِنْہُ وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَائِ إِلَی الأَرْضِ فَہُوَ الْحَقُّ الَّذِی أَنْتَ عَلَیْہِ تَأْخُذُ بِہِ فَیُعْلِیکَ اللَّہُ ثُمَّ یَأْخُذُ بِہِ بَعْدَکَ رَجُلٌ آخَرُ فَیَعْلُو بِہِ ثُمَّ یَأْخُذُ بِہِ آخَرُ بَعْدَہُ فَیَعْلُو بِہِ ثُمَّ یَأْخُذُ بِہِ رَجُلٌ آخَرُ فَیُقْطَعُ بِہِ ثُمَّ یُوصَلُ فَیَعْلُو بِہِ أَیْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَتُحَدِّثَنِّی أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ قَالَ : أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا۔ قَالَ : أَقْسَمْتُ بِأَبِی أَنْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَتُحَدِّثَنِّی بِالَّذِی أَخْطَأْتُ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : لاَ تُقْسِمْ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ أَحْیَانًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَحْیَانًا عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ وَکَمَا رَوَاہُ الرَّمَادِیُّ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ وَفَیَّاضُ بْنُ زُہَیْرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ أَزْہَرَ وَرَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ فَقَالَ کَانَ مَعْمَرٌ یَقُولُ مَرَّۃً عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَمَرَّۃً عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ وَرَوَاہُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فَقَالَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلاً جَائَ وَرَوَاہُ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ أَقْسَمْتُ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فِی الْحَدِیثِ قَالَ فَوَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَتُخْبِرَنِّی بِالَّذِی أَخْطَأْتُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٩٨٨٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں نے رات کو سائبان سے گھی اور شہد ٹپکتے ہوئے دیکھا ہے، میں نے لوگوں کو ہاتھ پھلائے ہوئے دیکھا ۔ کچھ زیادہ وصول کرتے ہیں اور کچھ کم اور میں نے ایک رسی آسمان سے زمین کی طرف لڑھکتی دیکھی، میرا خیال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پکڑا اور آسمان پر چڑھ گئے۔ پھر دوسرے آدمی نے پکڑا وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر تیسرے آدمی نے پکڑی وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر کسی اور نے رسی کو پکڑا لیکن وہ ٹوٹ گئی۔ لیکن رسی پھر درست ہوگئی وہ بھی چڑھ گیا تو ابوبکر (رض) فرماتے ہیں : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اس کی تعبیر کروں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تعبیر کرو۔ فرماتے ہیں : ظلۃ سے مراد اسلام کا سائبان ہے اس سے گھی اور شہد کے ٹپکنے سے مراد قرآن اس کی نرمی اور مٹھاس ہے۔ مستکر و مستقل سے مراد قرآن کو زیادہ سیکھنے والے اور کم سیکھنے والے ہیں۔ آسمان سے زمین کی طرف آنے والی رسی سے مراد حق ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے کر آئے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر کاربند ہیں جس کی وجہ سے اللہ نے آپ کو غلبہ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ایک دوسرے آدمی نے اس حق کو لیا اور غلبہ حاصل کیا۔ پھر دوسرے نے اس کے ذریعہ سے غلبہ حاصل کیا۔ پھر کسی دوسرے نے اس کو لیا تو رسی ٹوٹ جاتی ہے۔ پھر آخر کار وہ مل جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ غلبہ پاتے ہیں : اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان کریں میں نے درست کہا یا غلط ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بعض درست اور بعض غلط۔ میں نے کہا : میں نے قسم کھائی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری غلطی کو بیان کریں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو قسم نہ کھا۔
(ب) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا۔ حدیث میں ہے کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قسم ڈالتا ہوں۔
(ج) ابن شہاب زہری فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری غلطی کی مجھے خبر دیں۔