hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 19899

.

سنن البيهقي

19899
Sunan Al Bayhaqi
(۱۹۸۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ وَسَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَعَلْقَمَۃُ بْنُ وَقَّاصٍ وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ حَدِیثِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- حِینَ قَالَ لَہَا أَہْلُ الإِفْکِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَہَا اللَّہُ مِمَّا قَالُوا وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ : یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِینَ مَنْ یَعْذِرُنَا مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنَا أَذَاہُ فِی أَہْلِ بَیْتِی فَوَاللَّہِ مَا عَلِمْتُ فِی أَہْلِی إِلاَّ خَیْرًا وَلَقَدْ ذَکَرُوا رَجُلاً مَا عَلِمْتُ عَلَیْہِ إِلاَّ خَیْرًا وَمَا کَانَ یَدْخُلُ عَلَی أَہْلِی إِلاَّ مَعِی ۔ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الأَنْصَارِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَا أَعْذِرُکَ مِنْہُ إِنْ کَانَ مِنَ الأَوْسِ ضَرَبْتُ عُنُقَہُ وَإِنْ کَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا مِنَ الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَکَ قَالَتْ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ وَہُوَ سَیِّدُ الْخَزْرَجِ وَکَانَ قَبْلَ ذَلِکَ رَجُلاً صَالِحًا وَلَکِنِ احْتَمَلَتْہُ الْحَمِیَّۃُ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ کَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّہِ لاَ تَقْتُلُہُ وَلاَ تَقْدِرُ عَلَی قَتْلِہِ فَقَامَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ وَہُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ کَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّہِ لَنَقْتُلَنَّہُ فَإِنَّکَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِینَ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یُونُسَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٩٨٩٣) عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ (رض) حضرت عائشہ (رض) سے حدیث نقل فرماتے ہیں کہ جب تہمت لگانے والوں نے باتیں کیں تو اللہ نے ان کو پاک کردیا، لمبی حدیث ہے۔ فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منبر پر ارشاد فرمایا : اے مسلمانو کی جماعت ! کون ہمیں راحت دے گا۔ جس نے ہمارے گھر والوں کے بارے میں ہمیں تکلیف دی ہے۔ اللہ کی قسم ! میں اپنے گھر والوں کے متعلق بھلائی ہی کو جانتا ہوں اور جس آدمی کا تذکرہ انھوں نے کیا ہے، اس میں بھی بھلائی ہی کو پاتا ہوں، وہ صرف میرے گھر والوں کے پاس میرے ساتھ ہی گیا ہے تو سعد بن معاذ انصاری کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر وہ اوس قبیلہ سے ہے میں اس کی گردن اتار دوں۔ اگر وہ ہمارے بھائیوں خزرج کے قبیلہ سے ہے تو جو آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ سعد بن عبادہ خزرج کے سردار کھڑے ہوگئے، یہ نیک آدمی تھے لیکن حمیت نے ابھارا تو سعد بن معاذ سے کہنے لگے : اللہ کی قسم ! تو نے جھوٹ بولا ہے، نہ تو قتلی کرے گا نہ تو اس کی طاقت رکھتا ہے تو اسید بن حضر جو سعد بن معاذ کے چچا کے بیٹے تھے کھڑے ہو کر سعد بن عبادہ سے کہنے لگے : تو نے جھوٹ بولا، اللہ کی قسم ! ہم اس کو قتل کریں گے۔ تو منافق ہے اور منافقین کی جانب سے جھگڑا کرتا ہے۔