(۱۹۹۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃُ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا کَانَتْ تَقُولُ : أَیْمَانُ اللَّغْوِ مَا کَانَ فِی الْمِرَائِ وَالْہَزْلِ وَمُزَاحَۃِ الْحَدِیثِ الَّذِی لاَ یُعْقَدُ عَلَیْہِ الْقَلْبُ وَإِنَّمَا الْکَفَّارَۃُ فِی کُلِّ یَمِینٍ حَلَفْتَہَا عَلَی جِدٍّ مِنَ الأَمْرِ فِی غَضِبٍ أَوْ غَیْرِہِ لَتَفْعَلَنَّ أَوْ لَتَتْرُکَنَّ فَذَلِکَ عَقْدُ الأَیْمَانِ الَّتِی فَرَضَ اللَّہُ فِیہَا الْکَفَّارَۃَ۔ [صحیح]
(١٩٩٣٥) ہشام بن عروہ اپنیوالد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ لغو قسم وہ ہوتی ہے جو جھگڑے اور مذاق میں اٹھائی جائے اور وہ بات جس پر دل مطمئن نہ ہو اور کفارہ ہر قسم کا جو آپ نے مذاق یا غصہ کی حالت یا اس کے علاوہ میں کہہ دی کہ آپ ضرور یہ کام کریں گے یا ضرور چھوڑیں گے۔ یہ پختہ قسم ہے جس پر اللہ نے کفارہ کو فرض قرار دیا ہے۔