(۱۹۹۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ الْخُزَاعِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو شُعَیْبٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ وَعَنِ الْقَاسِمِ التَّمِیمِیِّ عَنْ زَہْدَمٍ الْجَرْمِیِّ قَالَ: کَانَ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الأَشْعَرِیِّینَ إِخَاء ٌ قَالَ فَکُنَّا عِنْدَ أَبِی مُوسَی فَقَرَّبَ إِلَیْنَا طَعَامًا فِیہِ لَحْمُ دَجَاجٍ وَفِی الْقَوْمِ رَجُلٌ أَحْمَرُ شَبِیہٌ بِالْمَوَالِی مِنْ تَیْمِ اللَّہِ فَقَالَ أَبُو مُوسَی ادْنُ فَکُلْ یَعْنِی فَقَالَ إِنِّی رَأَیْتُہُ یَأْکُلُ نَتَنًا فَحَلَفْتُ أَنْ لاَ أَطْعَمَہُ أَبَدًا فَقَالَ إِنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَأْکُلُ مِنْہُ ثُمَّ حَدَّثَ أَنَّہُ أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فِی نَفَرٍ مِنَ الأَشْعَرِیِّینَ یَسْتَحْمِلُہُ فَأَتَاہُ وَہُوَ یَقْسِمُ ذَوْدًا مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَۃِ فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ احْمِلْنَا وَہُوَ غَضْبَانُ فَقَالَ : وَاللَّہِ لاَ أَحْمِلُکُمْ وَلاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ۔ ثُمَّ أُتِیَ بِنَہْبِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَی فَأَعْطَانَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خَمْسَ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَی فَقُلْتُ تَغَفَّلْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لاَ نُفْلِحُ أَبَدًا فَأَتَیْنَاہُ فَقُلْنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ کُنْتَ حَلَفْتَ أَنْ لاَ تَحْمِلَنَا فَقَالَ: إِنِّی لَسْتُ أَنَا حَمَلْتُکُمْ وَلَکِنَّ اللَّہَ حَمَلَکُمْ وَاللَّہِ لاَ أَحْلِفُ عَلَی یَمِینٍ فَأَرَی غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا إِلاَّ أَتَیْتُ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ وَتَحَلَّلْتُ عَنْ یَمِینِی۔ لَفْظُ حَدِیثِ وُہَیْبٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ کِلاَہُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ عَنْ عَفَّانَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٩٩٤٨) زہدم جرمی فرماتے ہیں کہ ہمارے اور اشعریوں کے درمیان بھائی چارہ تھا۔ ہم ابوموسیٰ کے پاس تھے۔ انھوں نے کھانے میں مرغی کا گوشت پیش کیا۔ لوگوں کے اندر سرخ رنگ کا آدمی جو تیم اللہ کے قبیلے کے غلاموں کے مشاہبہ تھا۔ ابو موسیٰ فرمانے لگے : قریب ہو کر کھا۔ فرماتے ہیں : جس نے اس کو خراب گوشت کھاتے ہوئے دیکھا تھا میں نے قسم کھائی تھی کہ اس کو کھانا نہ کھلاؤں گا، فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا، وہ یہ گوشت کھاتے تھے۔ پھر وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اشعریوں کے گروہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سواری کی طلب میں آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صدقے کے اونٹ تقسیم فرما رہے تھے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم کو بھی سواری دی جائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ میں تھے ۔ فرمانے لگے : میں تمہیں سواری نہ دوں گا اور نہ میرے پاس ہے، اللہ کی قسم ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بلند کوہانوں والے اونٹ لائے گئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں پانچ اونٹ دے دیے۔ میں نے کہا : ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غافل کردیا، یعنی قسم بھلا دی۔ ہم فلاح نہ پائیں گے۔ ہم آپ کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے سواری نہ دینے پر قسم کھائی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے تمہیں سوار کیا ہے، میں نے تمہیں سواریاں مہیا نہیں کیں، لیکن جب میں کسی کام پر قسم اٹھاتا ہوں اور دوسرا کام اس سے بہتر ہو تو وہ کر کے اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور اپنی قسم کو چھوڑ دیتا ہوں۔