hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 19991

.

سنن البيهقي

19991
Sunan Al Bayhaqi
(۱۹۹۸۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ حَدَّثَنِی عَطَائُ بْنُ یَسَارٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ الْحَکَمِ السُّلَمِیُّ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی الطِّیَرَۃِ وَفِی الْعُطَاسِ فِی الصَّلاَۃِ قَالَ : ثُمَّ اطَّلَعْتُ غُنَیْمَۃً لِی تَرْعَاہَا جَارِیَۃٌ لِی قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِیَّۃِ فَوَجَدْتُ الذِّئْبَ قَدْ أَصَابَ مِنْہَا شَاۃً وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِی آدَمَ آسَفُ کَمَا یَأْسَفُونَ فَصَکَکْتُہَا صَکَّۃً ثُمَّ انْصَرَفْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرْتُہُ فَعَظَّمَ ذَلِکَ عَلَیَّ قَالَ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَفَلاَ أُعْتِقُہَا قَالَ : بَلِ ائْتِنِی بِہَا ۔ قَالَ : فَجِئْتُ بِہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لَہَا : أَیْنَ اللَّہُ؟ ۔ قَالَتْ : فِی السَّمَائِ ۔ قَالَ : فَمَنْ أَنَا؟ ۔ قَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّہِ۔ قَالَ : إِنَّہَا مُؤْمِنَۃٌ فَأَعْتِقْہَا ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَوْزَاعِیِّ دُونَ قِصَّۃِ الْجَارِیَۃِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٩٩٨٥) معاویہ بن حکم سلمی نے فال کے متعلق حدیث بیان فرمائی اور نماز کے اندر جمائی لینے کی متعلق، فرماتے ہیں کہ پھر میں نے اپنی بکریوں کا ریوڑ دیکھا جو لونڈی احد یا جوانیہ پہاڑ کے پاس چراتی تھی۔ بھیڑیا ایک بکری لے گیا ہے، میں بھی ابن آدم سے ہوں جیسے ان کو غصہ آتا مجھے بھی غصہ آیا۔ میں نے ایک تھپڑ رسید کردیا، پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور رسول اللہ کو بتایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو برا جانا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا میں اس کو آزاد کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو میرے پاس لاؤ۔ کہتے ہیں : میں اس کو آپ کے پاس لایا۔ آپ نے فرمایا : اللہ کہاں ہے ؟ کہنے لگی : آسمان میں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا میں کون ہوں : اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا : آزاد کر دو؛ کیونکہ یہ مومنہ ہے۔