hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20090

.

سنن البيهقي

20090
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۰۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ کُرَیْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَفْسِی قَالَ وَعِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا رَجُلٌ یُرِیدُ أَنْ یَخْرُجَ إِلَی الْجِہَادِ وَمَعَہُ أَبَوَاہُ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مُشْتَغِلٌ یَقُولُ لَہُ أَقِمْ مَعَ أَبَوَیْکَ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَقُولُ إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَفْسِی فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مَا أَصْنَعُ بِکَ اذْہَبْ فَانْحَرْ نَفْسَکَ فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مِنَ الرَّجُلِ وَأَبَوَیْہِ قَالَ عَلَیَّ بِالرَّجُلِ فَذَہَبُوا فَوَجَدُوہُ قَدْ بَرَکَ عَلَی رُکْبَتَیْہِ یُرِیدُ أَنْ یَنْحَرَ نَفْسَہُ فَجَائُ وا بِہِ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَ وَیْحَکَ لَقَدْ أَرَدْتَ أَنْ تُحِلَّ ثَلاَثَ خِصَالٍ أَنْ تُحِلَّ بَلَدًا حَرَامًا وَتَقْطَعَ رَحْمًا حَرَامًا نَفْسُکُ أَقْرَبُ الأَرْحَامِ إِلَیْکَ وَأَنْ تَسْفِکَ دَمًا حَرَامًا أَتَجِدُ مِائَۃً مِنَ الإِبِلِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاذْہَبْ فَانْحَرْ فِی کُلِّ عَامٍ ثُلُثًا لاَ یَفْسُدُ اللَّحْمُ۔ ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَرِوَایَۃُ ابْنِ نُمَیْرٍ بِمَعْنَاہُ وَزَادَ قَالَ کُرَیْبٌ فَشَہَدْتُہُ عَامَیْنَ فَأَمَّا الثَّالِثُ فَلاَ أَدْرِی مَا فَعَلَ۔ [صحیح]
(٢٠٠٨٤) کریب ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : میں نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، راوی فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) کے پاس اس وقت ایک آدمی تھا جو جہاد کے لیے جانا چاہتا تھا، اس کے والدین بھی موجود تھے تو ابن عباس (رض) فرما رہے تھے : والدین کے ساتھ دو ۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ کہنے لگا : میں نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے تو ابن عباس فرماتے ہیں : کیا کروں ؟ جاؤ اپنے آپ کو قتل کرو۔ جب ابن عباس (رض) اس آدمی اور کے والدین سے فارغ ہوئے تو فرمایا :، اس آدمی کو میرے پاس لاؤ۔ وہ گئے تو اپنے آپ کو ذبح کرنے کے لیے تیار کررہا تھا۔ وہ اس کو ابن عباس (رض) کے پاس لے کر آئے تو ابن عباس (رض) فرمانے لگے : تو نے تین اشیاء کو حلال کرنے کی کوشش کی ہے :1 حرمت والے شہر کی حرمت کو ختم کرنا۔ 2 اور قطع رحمی کرنا، یعنی تیرا اپنا نفس سب سے زیادہ صلہ رحمی کا حق رکھتا ہے۔ 3 حرام خون بہانا۔ کیا تیرے پاس سو اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں فرمایا : جاؤ ہر سال تہائی حصہ اونٹوں کا ذبح کرو لیکن گوشت خراب نہ کرنا۔
(ب) کریب فرماتے ہیں کہ دو سال تک میں حاضر ہوتا رہا، لیکن تیسرے سال میں حاضر نہ ہوا، مجھے معلوم نہیں اس نے کیا کہ نہیں۔