(۲۰۰۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ بْنِ وَاقِدٍ الْکِلاَبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَیْنِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَتْ ثَقِیفٌ حُلَفَائَ لِبَنِی عُقَیْلٍ فَأَسَرَتْ ثَقِیفٌ رَجُلَیْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- رَجُلاً وَأَصَابُوا مَعَہُ الْعَضْبَائَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ کَمَا مَضَی وَفِیہِ قَالَ وَأُسِرَتِ امْرَأَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَأُصِیبَتِ الْعَضْبَائُ فَکَانَتِ الْمَرْأَۃُ فِی الْوَثَاقِ وَکَانَ الْقَوْمُ یُرِیحُونَ نَعَمَہُمْ بَیْنَ أَیْدِی بُیُوتِہِمْ فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ مِنَ الْوَثَاقِ فَأَتَتِ الإِبِلَ فَجَعَلَتْ إِذَا دَنَتْ مِنَ الْبَعِیرِ رَغَا فَتَتْرُکُہُ حَتَّی تَنْتَہِیَ إِلَی الْعَضْبَائِ فَلَمْ تَرْغُ قَالَ وَنَاقَۃٌ مُنَوَّقَۃٌ فَقَعَدَتْ فِی عَجُزِہَا ثُمَّ زَجَرَتْہَا فَانْطَلَقَتْ وَنَذِرُوا بِہَا فَطَلَبُوہَا فَأَعْجَزَتْہُمْ قَالَ وَنَذَرَتْ إِنِ اللَّہُ أَنْجَاہَا لَتَنْحَرَنَّہَا فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِینَۃَ رَئَ اہَا النَّاسُ فَقَالُوا الْعَضْبَائُ نَاقَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ إِنَّہَا قَدْ نَذَرَتْ إِنِ اللَّہُ أَنْجَاہَا عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا فَأَتَوُا النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرُوا ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّہِ بِئْسَمَا جَزَتْہَا إِنِ اللَّہُ أَنْجَاہَا عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا لاَ وَفَائَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ وَلاَ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ الْعَبْدُ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۶۴۱]
(٢٠٠٩٠) ابومہلب حضرت عمران بن حصین سے نقل فرماتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف قبیلہ بنو عقیل کے حلیف تھے۔ ثقیف نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو صحابی قیدی بنا لیے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے ایک آدمی کو قید کرلیا اور انھوں نے اس کی اونٹنی بھی قبضہ میں لے لی۔ اس نے حدیث کو ذکر کیا۔ انصاری عورت قیدی بنائی گئی۔ عضباء اونٹنی چوری کرلی گئی۔ وہ عورت قید میں تھی اور لوگ اپنے جانور اپنے گھروں کے سامنے چراتے تھے۔ وہ عورت ایک رات قید سے نکلی اور کھسک کر اونٹوں کے پاس پہنچ گئی۔ جب وہ کسی اونٹ کے پاس جاتی وہ آواز نکالتا تو وہ اس کو چھوڑ دیتی یہاں تک کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عضباء اونٹنی تک پہنچ گئی۔ اس نے آواز نہ نکالی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ نکیل والی اونٹنی تھی۔ اس عورت نے اس پر سواری کی اور رجزیہ اشعار کہے اور چلی گئی۔ انھوں نے نذر مانی اس عورت کو تلاش کرنا چاہا تو اس عورت نے ان کو عاجز کردیا۔ اس نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے اس کو نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی۔ جب وہ مدینہ آئی تو لوگوں نے اس کو دیکھا تو کہنے لگے کہ عضباء نبی کی اونٹنی ہے۔ اس عورت نے کہا : میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مجھے نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور اس بات کا انھوں نے تذکرہ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ پاک ہے۔ اگر اللہ نے اس اونٹنی پر اس کو نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی ، یہ برا ہے۔ پھر فرمایا : اللہ کی نافرمانی میں نذر کا پورا کرنا نہیں اور جس کا بندہ مالک نہیں (اس میں بھی نذر نہیں) ۔