(۲۰۱۱۷) وَرَوَاہُ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ فَأَرْسَلَہُ وَلَمْ یَذْکُرِ الْہَدْیَ فِیہِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَنْبَأَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عِکْرِمَۃَ : أَنَّ أُخْتَ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِیَۃً فَسَأَلَ عُقْبَۃُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: مُرْہَا أَنْ تَرْکَبَ فَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی غَنِیٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِکَ أَوْ مَشْیِ أُخْتِکَ۔ شَکَّ سَعِیدٌ۔
(٢٠١١٧) قتادہ عکرمہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عقبہ بن عامر (رض) کی بہن نے پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی تو عقبہ بن عامر (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا : اس کو حکم دو کہ وہ سوار ہوجائے۔ اللہ تیری بہن کی نذر یا اس کے چلنے سے بے پروا ہے۔ سعید کو شک ہے۔