(۲۰۱۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ عَنْ یَحْیَی بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَسِیرُ فِی رَکْبٍ فِی جَوْفِ اللَّیْلِ إِذْ بَصَرَ بِخَیَالٍ قَدَ نَفَرَتْ مِنْہُ إِبِلُہُمْ فَأَنْزَلَ رَجُلاً فَنَظَرَ فَإِذَا ہُوَ بِامْرَأَۃٍ عُرْیَانَۃٍ نَاقِضَۃٍ شَعَرَہَا فَقَالَ : مَا لَکِ؟ ۔ قَالَتْ : إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَحُجَّ الْبَیْتَ مَاشِیَۃً عُرْیَانَۃً نَاقِضَۃً شَعَرِی فَأَنَا أَتَکَمَّنُ بِالنَّہَارِ وَأَتَنَکَّبُ الطَّرِیقَ بِاللَّیْلِ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ : ارْجِعْ إِلَیْہَا فَمُرْہَا فَلْتَلْبِسْ ثِیَابَہَا وَلْتُہَرِقْ دَمًا ۔
ہَذَا إِسْنَادٌ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف]
(٢٠١٢٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم آدھی رات کے وقت ایک قافلے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ اچانک ایک قافلہ کو دیکھا، جن کا اونٹ بھاگ گیا تھا۔ ایک آدمی اترا۔ اس نے دیکھا کہ ایک عورت ننگی، کھلے بال اونٹ پر سوار ہے۔ اس نے کہا : تجھے کیا ہے ؟ وہ کہنے لگی : میں نے نذر مانی ہے کہ بیت اللہ کا حج ننگے اور کھلے بالوں کروں گی۔ میں دن کو چھپ جاتی ہوں اور رات کو سفر کرتی ہوں۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ آپ کو خبر دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو حکم دو کہ وہ کپڑے پہنے اور قربانی دے۔