(۲۰۱۴۴) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُوعَمْرٍو الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُوبَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَنْبَأَنَا یُوسُفُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ کُلَّ ثَلاَثَائَ أَوْ أَرْبِعَائَ مَا عِشْتُ فَإِنْ وَافَقْتُ ہَذَا الْیَوْمَ یَوْمَ نَحْرٍ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : إِنَّہُ قَدْ أَمَرَ اللَّہُ بِوَفَائِ النَّذْرِ وَنُہِینَا أَنْ نَصُومَ ہَذَا الْیَوْمَ قَالَ فَخُیِّلَ إِلَی الرَّجُلِ أَنَّہُ لَمْ یَفْہَمْ فَأَعَادَ عَلَیْہِ الْکَلاَمَ الثَّانِیَۃَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَدْ أَمَرَ اللَّہُ بِوَفَائِ النَّذْرِ وَنُہِینَا عَنْ صِیَامِ ہَذَا الْیَوْمِ۔ قَالَ یُونُسُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلْحَسَنِ فَقَالَ یَصُومُ یَوْمًا مَکَانَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ دُونَ قَوْلِ الْحَسَنِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ جُبَیْرٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠١٤٤) زیاد بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر (رض) کے پاس تھا۔ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا : جب تک میں زندہ رہوں گا منگل یا بدھ کا روزہ رکھوں گا۔ اگرچہ اس دن عیدالاضحی کیوں نہ ہو۔ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن اس دن روزہ رکھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ آدمی کے خیال کے مطابق کہ وہ ان کی بات سمجھ نہیں سکے۔ دوسری مرتبہ کلام کو دوہرایا تو ابن عمر (رض) فرمانے لگے : اللہ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور اس دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
(ب) یونس کہتے ہیں : میں نے اس کا تذکرہ حضرت حسن سے پوچھا گیا تو کہنے لگے : وہ اس کی جگہ کسی اور دن روزہ رکھ لے۔