hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20152

.

سنن البيهقي

20152
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۱۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ أَبِی غَالِبٍ فِی حَدِیثٍ ذَکَرَہُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الصَّلاَۃِ عَلَی الْجَنَازَۃِ قَالَ فَقَالَ الْعَلاَئُ بْنُ زِیَادٍ یَا أَبَا حَمْزَۃَ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : نَعَمْ غَزَوْتُ مَعَہُ حُنَیْنًا فَخَرَجَ الْمُشْرِکُونَ فَحَمَلُوا عَلَیْنَا حَتَّی رَأَیْنَا خَیْلَنَا وَرَائَ ظُہُورِنَا وَفِی الْقَوْمِ رَجُلٌ یَحْمِلُ عَلَیْنَا فَیَدُقُّنَا وَیَحْطِمُنَا فَہَزَمَہُمُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ جَمِیعًا وَجَعَلَ یُجَائُ بِہِمْ فَیُبَایِعُونَہُ عَلَی الإِسْلاَمِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِنَّ عَلَیَّ نَذْرًا إِنْ جَائَ اللَّہُ بِالرَّجُلِ الَّذِی کَانَ مُنْذُ الْیَوْمِ یَحْطِمُنَا لأَضْرِبَنَّ عُنُقَہُ فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَجِیئَ بِالرَّجُلِ فَلَمَّا رَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ تُبْتُ إِلَی اللَّہِ فَأَمْسَکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لاَ یُبَایِعُہُ لِیَفِیَ الرَّجُلُ بِنَذْرِہِ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَتَصَدَّی لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لِیَأْمُرَہُ بِقَتْلِہِ وَجَعَلَ یَہَابُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَقْتُلَہُ فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ لاَ یَصْنَعُ شَیْئًا بَایَعَہُ فَقَالَ الرَّجُلُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ نَذْرِی۔ قَالَ : إِنِّی لَمْ أُمْسِکْ عَنْہُ مُنْذُ الْیَوْمِ إِلاَّ لِتُوفِیَ بِنَذْرِکَ ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلاَ أَوْمَضْتَ إِلَیَّ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِنَّہُ لَیْسَ لِنَبِیٍّ أَنْ یُومِضَ ۔ [ضعیف]
(٢٠١٤٦) ابو غالب نے حضرت انس بن مالک (رض) سے نماز جنازہ کے بارے میں ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ علاء بن زیاد نے کہا : اے ابوحمزہ ! کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر غزوہ کیا ہے ؟ فرمایا : ہاں۔ میں نے حنین کا غزوہ کیا۔ مشرکین نے ہمارے اوپر حملہ کردیا۔ ہم نے اپنے شہسواروں کو اپنے پیچھے دیکھا۔ مشرکین کا ایک آدمی ہمیں قتل کررہا تھا۔ اللہ نے ان کو شکست دی۔ وہ اگر اسلام پر بیعت کر رہے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے ایک نے کہا : میں نے نذر مانی ہے کہ کل جو آدمی ہمیں قتل کررہا تھا، اگر اس کو اللہ ہمارے پاس لے آیا میں ضرور اس کی گردن اڑادوں گا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے، آدمی لایا گیا۔ جب اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! میں نے اللہ سے توبہ کی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے بیعت نہ لی، تاکہ وہ اپنی نذر پوری کرلے۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آرہا تھا کہ آپ اس کے قتل کا حکم دیں۔ وہ آدمی ڈر رہا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو قتل کروا دیں گے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا، وہ کچھ نہیں کر رہاتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیعت لے لی۔ اس آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میری نذر۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ایک دن رکا رہا تاکہ تو اپنی نذر پوری کرلے۔ کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اشارہ فرما دیتے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی نبی کے لیے لائق نہیں کہ وہ اشارہ کرے۔