(۲۰۱۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَنْبَأَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ امْرَأَۃً رَکِبَتِ البَحْرَ فَنَذَرَتْ إِنْ نَجَّاہَا اللَّہُ أَنْ تَصُومَ شَہْرًا فَنَجَّاہَا اللَّہُ فَلَمْ تَصُمْ حَتَّی مَاتَتْ فَجَائَ تْ بِنْتُہَا أَوْ أُخْتُہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَمَرَہَا أَنْ تَصُومَ عَنْہَا۔
سَائِرُ الرِّوَایَاتِ فِیہِ قَدْ مَضَتْ فِی کِتَابِ الصِّیَامِ وَکِتَابِ الْحَجِّ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠١٤٨) سعید بن جبیر ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے سمندری سفر شروع کیا۔ اس نے نذر مانی۔ اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ ایک مہینے کے روزے رکھے گی۔ اللہ نے اس کو نجات دے دی روزے رکھنے سے پہلے فوت ہوگئی۔ اس کی بیٹی یا بہن آئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی جانب سے روزے رکھنے کے بارے میں حکم دیا۔