(۲۰۱۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَنْبَأَنَا شُعْبَۃُ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ وَاللَّفْظُ لَہُ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- بَعَثَہُ وَمُعَاذًا إِلَی الْیَمَنِ فَقَالَ : یَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا وَتَطَاوَعَا وَلاَ تَخْتَلِفَا ۔ قَالَ : وَکَانَ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا فُسْطَاطٌ یَزُورُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا صَاحِبَہُ فِیہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَاسْتَشْہَدَ الْبُخَارِیُّ بِرِوَایَۃِ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ وَوَکِیعٍ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠١٥٠) سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اور معاذ کو یمن کی طرف روانہ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آسانی کرنا، تنگی نہ کرنا، خوشخبری دینا، نفرت پیدا نہ کرنا۔ آپس میں موافقت رکھنا، اختلاف نہ پیدا کرنا۔ ان دونوں میں سے ہر ایک کے خیمہ میں فسطاط تھا جس میں روزانہ وہ ایک دوسرے کی زیارت کرتے تھے۔