(۲۰۱۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِیِّ أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ ذَاتَ یَوْمٍ فِی خُطْبَتِہِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ وَقَالَ : أَہْلُ الْجَنَّۃِ ثَلاَثَۃٌ ذُو سُلْطَانٍ مُقْصِدٌ مُتَصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ وَرَجُلٌ رَحِیمٌ رَقِیقُ الْقَلْبِ لِکُلِّ ذِی قُرْبَی وَمُسْلِمٍ وَفَقِیرٌ عَفِیفٌ مُتَصَدِّقٌ وَأَہْلُ النَّارِ خَمْسَۃٌ الضَّعِیفُ الَّذِی لاَ زَبْرَ لَہُ الَّذِینَ ہُمْ فِیکُمْ تَبَعٌ لاَ یَبْتَغُونَ أَہْلاً وَلاَ مَالاً وَالْخَائِنُ الَّذِی لاَ یَخْفَی لَہُ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ إِلاَّ خَانَہُ وَرَجُلٌ لاَ یُصْبِحُ وَلاَ یُمْسِی إِلاَّ وَہُوَ یُخَادِعُکَ عَنْ أَہْلِکَ وَمَالِکَ ۔ وَذَکَرَ الْبُخْلَ وَالْکَذِبَ : وَالشِّنْظِیرُ الْفَحَّاشُ ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ وَغَیْرِہِ عَنْ قَتَادَۃَ وَقَالَ ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ۔
[صحیح۔ مسلم ۲۸۶۵]
(٢٠١٦١) عیاض بن حمارمجاشعی فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خطبہ میں فرمایا : اس نے حدیث کو ذکر کیا، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اہل جنت کی تین اقسام ہیں : 1 بادشاہ جس کو صدقہ کی توفیق دی گئی۔ 2 نرم دل آدمی جو قریبی رشتہ داروں اور مسلمانوں کے لیے ہو۔ 3 غریب آدمی پاک دامن صدقہ کرنے والا اور جہنمیوں کی پانچ اقسام ہیں : 1 کمزور آدمی جس کو عقل نہ ہو۔ وہ لوگ جو تمہارے تابع ہیں جو اپنے اہل ومال کو بھی تلاش نہیں کرتے۔ 2 خائن آدمی اگرچہ حقیر چیز کی ہی خیانت کرتا ہو۔ 3 وہ آدمی جو اپنے اہل ومال سے دھوکا کرتا ہے۔ 4 بخل اور کذب کا تذکرہ بھی کیا۔ 5 ۔ بداخلاق انسان۔
(ب) قتادہ کی روایت میں ہے کہ انصاف کرنے والا حکمران۔