(۲۰۱۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَزْرَقِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ عَسْعَسِ بْنِ سَلاَمَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ فِی سَفَرٍ فَفَقَدَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِہِ فَأُتِیَ بِہِ فَقَالَ إِنِّی أَرَدْتُ أَنْ أَخْلُوَ بِعِبَادَۃِ رَبِّی وَأَعْتَزِلَ النَّاسَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَلاَ تَفْعَلْہُ وَلاَ یَفْعَلْہُ أَحَدٌ مِنْکُمْ قَالَہَا ثَلاَثًا فَلَصَبْرُ سَاعَۃٍ فِی بَعْضِ مَوَاطِنِ الْمُسْلِمِینَ خَیْرٌ مِنْ عِبَادَۃِ أَرْبَعِینَ عَامًا خَالِیًا۔ [ضعیف]
(٢٠١٧٦) ععس بن سلامہ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سفر میں تھے، اپنے ایک ساتھی کو گم پایا اس کو لایا گیا، اس نے کہا : میرا دل چاہتا ہے کہ میں لوگوں سے جدا رہ کر اللہ کی عبادت میں مصروف رہوں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو ایسا کر اور نہ ہی تم میں سے کوئی ایسا کرے۔ تین مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات کہی۔ پھر فرمایا : کسی ایک گھڑی مسلمانوں کی مجالس میں صبر کرلینا یہ چالیس سال کی تنہائی میں عبادت سے بہتر ہے۔