(۲۰۱۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَارِئُ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَنْزَۃَ الْمَدَائِنِیُّ حَدَّثَنَا سَلاَّمٌ أَبُو الْمُنْذِرِ الْمُقْرِئُ الْبَصْرِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَوْصَانِی خَلِیلِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِسَبْعٍ أَمَرَنِی أَنْ أَنْظُرَ إِلَی مَنْ ہُوَ دُونِی وَلاَ أَنْظُرَ إِلَی مَنْ ہُوَ فَوْقِی وَأَمَرَنِی بِحُبِّ الْمَسَاکِینِ وَالدُّنُوِّ مِنْہُمْ وَأَمَرَنِی أَنْ لاَ أَسْأَلَ أَحَدًا شَیْئًا وَأَمَرَنِی أَنْ أَصِلَ الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ وَأَمَرَنِی أَنْ أَقُولَ الْحَقَّ وَإِنْ کَانَ مُرًّا وَأَمَرَنِی أَنْ لاَ یَأْخُذَنِی فِی اللَّہِ لَوْمَۃُ لاَئِمٍ وَأَمَرَنِی أَنْ أُکْثِرَ مِنْ قَوْلِ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ فَإِنَّہَا مِنْ کَنْزِ الْجَنَّۃِ۔
لَفْظُ حَدِیثِہِ عَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ۔ [صحیح]
(٢٠١٨٦) عبداللہ بن صامت سیدنا ابو ذر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے دوست نے مجھے سات چیزوں کی وصیت کی : 1 میں اس کی طرف دیکھوں جو مجھ سے کم تر ہے، اس کی طرف نہ دیکھوں جو مجھ سے بہتر ہے۔ 2 مساکین اور حقیر لوگوں سے محبت کا حکم دیا۔ 3 میں کسی سے سوال نہ کروں 4 میں صلہ رحمی کروں اگرچہ وہ مجھے پیچھے ہی چھوڑ دیں۔ 5 ۔ حق کہوں اگرچہ کڑوا ہی کیوں نہ ہو۔ 6 اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال نہ کروں۔ 7 میں اکثر لا الٰہ الا اللہ کہتا رہوں کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔