(۲۰۱۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَیْبٍ أَنْبَأَنَا عُتْبَۃُ بْنُ أَبِی حَکِیمٍ الْہَمْدَانِیُّ
(ح) وَأَنْبَأَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَکِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ أَبِی حَکِیمٍ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ جَارِیَۃَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو أُمَیَّۃَ الشَّعْبَانِیُّ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِی أُمَیَّۃَ الشَّعْبَانِیِّ قَالَ : أَتَیْتُ أَبَا ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیَّ فَقُلْتُ کَیْفَ تَصْنَعُ بِہَذِہِ الآیَۃِ قَالَ أَیَّۃُ آیَۃٍ قَالَ قُلْتُ قَوْلَہُ تَعَالَی {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا عَلَیْکُمْ أَنْفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ} [المائدۃ ۱۰۵] قَالَ أَمَا وَاللَّہِ لَقَدْ سَأَلْتُ عَنْہَا خَبِیرًا سَأَلْتُ عَنْہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : بَلْ أَنْتُمُ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ حتَّی إِذَا رَأَیْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَہَوًی مُتَّبَعًا وَدُنْیَا مُؤْثَرَۃً وَإِعْجَابَ کُلِّ ذِی رَأْیٍ بِرَأْیِہِ وَرَأَیْتَ أَمْرًا لاَ یَدَانِ لَکَ بِہِ فَعَلَیْکَ نَفْسَکَ وَدَعْ عَنْکَ أَمْرَ الْعَوَامِّ فَإِنَّ مَنْ وَرَائِکَ أَیَّامَ الصَّبْرِ الصَّبْرُ فِیہِنَّ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَی الْجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِیہِنَّ کَأَجْرِ خَمْسِینَ رَجُلاً یَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِہِ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ شُعَیْبٍ زَادَ ابْنُ الْمُبَارَکِ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ وَزَادَنِی غَیْرُہُ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَجْرُ خَمْسِینَ مِنْہُمْ۔ قَالَ : أَجْرُ خَمْسِینَ مِنْکُمْ ۔ [ضعیف]
(٢٠١٩٣) ابن ابی شعیب ابو امیہ شعبانی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ابو ثعلبہ خشانی کے پاس آیا، میں نے کہا : اس آیت کا آپ کیا مفہوم لیتے ہیں، کہنے لگے : کون سی آیت ؟ میں نے کہا : اللہ کا یہ فرمان : { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ } [المائدۃ ١٠٥] ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم اپنے نفسوں کو لازم پکڑو۔ جب تم ہدایت یافتہ ہوئے تو کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہ دے گی۔ “ کہنے لگے : میں نے اس کا سوال جبیر سے کیا۔ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا۔ آپ نے فرمایا : تم ایک دوسرے کو نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرو۔ جب تم ایسی بخیلی کو دیکھوجس کی پیروی کی جائے اور ایسی خواہش جس کی اتباع کی جائے اور دنیا کو ترجیح دی جائے۔ اور آدمی اپنی رائے کو پسند کرے اور آپ ایسا معاملہ دیکھیں جو آپ کے بس کی بات نہ ہو۔ اس وقت اپنے آپ کو لازم پکڑو اور عوام کے مسائل کو چھوڑدو۔ کیونکہ اس کے بعد صبر کے ایام ہیں۔ ان ایام میں صبر کرنا جیسے کوئلے کو ہاتھ میں پکڑنا ہے۔ ان ایام میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے اجر کے برابر ثواب ہوگا۔
(ب) ابن شعیب کی حدیث کے لفظ جس میں ابن مبارک کی روایت ہی یہ ہیں کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان میں سے پچاس آدمیوں کا ثواب ملے گا ؟ فرمایا : نہیں بلکہ تمہارے پچاس آدمیوں کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا۔