(۲۰۲۰۳) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ مَنْصُورٍ یَعْنِی ابْنَ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ مِنَ الْحَبَشَۃِ قَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَا أَعْجَبُ شَیْئٍ رَأَیْتَ؟ قَالَ : رَأَیْتُ امْرَأَۃً عَلَی رَأْسِہَا مِکْتَلٌ مِنْ طَعَامٍ فَمَرَّ فَارِسٌ یَرْکُضُ فَأَذْرَاہُ فَجَعَلَتْ تَجْمَعُ طَعَامَہَا وَقَالَتْ وَیْلٌ لَکَ یَوْمَ یَضَعُ الْمَلِکُ کُرْسِیَّہُ فَیَأْخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنَ الظَّالِمِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- تَصْدِیقًا لِقَوْلِہَا : لاَ قُدِّسَتْ أُمَّۃٌ ۔ أَوْ : کَیْفَ قُدِّسَتْ لاَ یُؤْخَذُ لِضَعِیفِہَا مِنْ شَدِیدِہَا وَہُوَ غَیْرُ مُتَعْتَعٍ ۔ [ضعیف]
(٢٠٢٠٣) ابن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب حضرت جعفر حبشہ سے واپس ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تجھے کس چیز نے تعجب میں ڈالا ؟ کہنے لگے : میں نے ایک عورت کو دیکھا، اس کے سر پر کھانے کا ٹوکرا تھا۔ اس کے پاس سے ایکشہسوار گزرا وہ ایڑلگا رہا تھا۔ اس نے اس کا وہ کھانا بکھیر دیا۔ وہ اپنا کھانا جمع کرنا شروع ہوئی اور کہنے لگی : تیری ہلاکت ہو جب مالک اپنی کرسی رکھے گا وہ مظلوم کا حق ظالم کو لے کر دے گا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کے قول کی تصدیق کی۔ فرمایا : کوئی امت پاک نہ کی جائے گی یا فرمایا : کیسے پاک کی جائے کہ اس امت کا کمزور قوی سے اپنا حق بغیر کسی مشقت کے حاصل کرے۔