(۲۰۲۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَنْبَأَنَا أَبُوالْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الطِّیِّبِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنِی زِیَادُ بْنُ نُعَیْمٍ الْحَضْرَمِیُّ قَالَ سَمِعْتُ زِیَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِیَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یُحَدِّثُ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَبَایَعْتُہُ عَلَی الإِسْلاَمِ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ قَالَ فِیہِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَنْزِلاً فَأَتَاہُ أَہْلُ ذَلِکَ الْمَنْزِلِ یَشْکُونَ عَامِلَہُمْ وَیَقُولُونَ أَخَذَنَا بِشَیْئٍ کَانَ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِہِ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: أَوَفَعَلَ ذَلِکَ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ۔ فَالْتَفَتَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِلَی أَصْحَابِہِ وَأَنَا فِیہِمْ فَقَالَ: لاَ خَیْرَ فِی الإِمَارَۃِ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ۔ [ضعیف]
(٢٠٢١٧) زیاد بن نعیم حضرمی کہتے ہیں : زیاد بن حارث صدائی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ہیں، فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا ، اسلام پر بیعت کی۔ ہمیں حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا وہاں کے لوگ اپنے عامل کی شکایت کر رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے : اس نے ہم سے ایسی چیزیں بھی لی ہے جو ہمارے اور قریشیوں کے درمیان جاہلیت میں معاہدہ میں تھیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا اس نے ایسا کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا، میں بھی ان میں شامل تھا۔ آپ نے فرمایا : مومن آدمی کے لیے امارت میں بھلائی نہیں ہے۔