(۲۰۲۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالَ سَمِعْتُ وَالِدِی یَقُولُ سَمِعْتُ
(ح) وَأَنْبَأَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِیبٍ الْمُفَسِّرُ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ الأَرْغَیَانِیُّ قَالَ سَمِعْتُ یُونُسَ بْنَ عَبْدِ الأَعْلَی یَقُولُ : کَتَبَ الْخَلِیفَۃُ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ وَہْبٍ فِی قَضَائِ مِصْرَ فَجَنَّنَ نَفْسَہُ وَلَزِمَ الْبَیْتَ وَأَرَادَ أَنْ یَتَوَضَّأَ فِی وَسَطِ الدَّارِ فَاطَّلَعَ عَلَیْہِ رِشْدِینُ بْنُ سَعْدٍ مِنَ السَّطْحِ فَقَالَ یَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَلاَ تَخْرُجُ إِلَی النَّاسِ فَتَحْکُمَ بَیْنَہُمْ بِمَا أَمَرَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ قَدْ جَنَّنْتَ نَفْسَکَ وَلَزِمْتَ الْبَیْتَ فَرَفَعَ رَأْسَہُ إِلَیْہِ وَقَالَ إِلَی ہَا ہُنَا انْتَہَی عِلْمُکَ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ الْقُضَاۃَ یُحْشَرُونَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ السَّلاَطِینِ وَیُحْشَرُ الْعُلَمَائُ مَعَ الأَنْبِیَائِ وَالْمُرْسَلِینَ۔ [صحیح]
(٢٠٢٤٠) یونس بن عبدالاعلیٰ فرماتے ہیں کہ خلیفہ نے عبداللہ بن وہب کو مصر کے عہدہ قضاء کے لیے لکھا تو انھوں نے اپنے گھر کو لازم پکڑ لیا۔ ایک دن گھر کے درمیان وضو کرنے لگے تو چھت سے رشدین بن سعد نے دیکھ لیا اور کہا : اے ابومحمد ! کیا لوگوں کی طرف نکل کر فیصلہ نہ کرو گے جس کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے۔ آپ نے اپنے گھر کو لازم پکڑ لیا ہے۔ انھوں نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا تیرے علم کی انتہا یہی ہے۔ کیا تو جانتا نہیں ہے کہ قاضی کا حشر قیامت کے دن بادشاہوں کے ساتھ ہوگا اور علماء کا حشر انبیاء اور رسولوں کے ساتھ ہوگا۔