(۲۰۲۴۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ قَالَ سَمِعْتُ الْحُسَیْنَ بْنَ مَنْصُورٍ یَقُولُ دَخَلْتُ عَلَی یَحْیَی بْنِ یَحْیَی فَسَلَّمْتُ فَلَمْ یَلْتَفِتْ إِلَیَّ فَجَلَسْتُ نَاحِیَۃً حَتَّی تَفَرَّقَ النَّاسُ فَدَنَوْتُ وَقَبَّلْتُ رَأْسَہُ فَقُلْتُ یَا أُسْتَاذُ أَیُّ جِنَایَۃٍ جَنَیْتُہَا قَالَ بَلَی جَنَیْتَ جِنَایَۃً وَرَکِبْتَ ذَنْبًا عَظِیمًا فَقُلْتُ مَا ہِیَ قَالَ أَرَأَیْتَ إِذَا نَادَی الْمُنَادِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَیْنَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ طَاہِرٍ أَلَسْتَ مِمَّنْ یُؤْخَذُ فِی الْعَدَالَۃِ قَالَ فَقُلْتُ أَسْتَغْفِرُ اللَّہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ قَالَ فَدَنَا مِنِّی وَعَانَقَنِی وَقَالَ الآنَ أَنْتَ أَخِی۔ [صحیح]
(٢٠٢٤٢) حسین بن منصور فرماتے ہیں کہ میں یحییٰ بن یحییٰ کے پاس گیا۔ میں نے سلام کہا۔ اس نے میری طرف دیکھا ہی نہیں۔ میں ایک کونے میں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ لوگ بکھر گئے۔ میں نے قریب ہو کر ان کے سر کا بوسہ لیا اور کہا : اے استاد ! مجھ سے کون سا گناہ سرزد ہوگیا ؟ اس نے کہا : ہاں تو نے بہت بڑا جرم وگناہ کیا ہے۔ میں نے کہا : وہ کیا ہے ؟ وہ کہنے لگے : تیرا کیا خیال ہے جب قیامت کے دن آواز دی جائے گی کہ عبداللہ بن طاہر کے شاگرد کہاں ہیں ؟ کیا تو ان لوگوں میں سے نہیں جن کا عدالت میں مواخذہ کیا گیا۔ کہتے ہیں : میں نے کہا : میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں، رجوع کرتا ہوں، کہتے ہیں : وہ میرے قریب ہوئے اور معانقہ کیا۔ فرمایا : اب تو میرا بھائی ہے۔