(۲۰۲۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَنْبَأَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ یَقُولُ لِبَعْضِ أَہْلِہِ : أَتَعْرِفِینَ فُلاَنَۃَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مَرَّ بِہَا وَہِیَ عِنْدَ قَبْرٍ تَبْکِی فقَالَ لَہَا : اتَّقِی اللَّہَ وَاصْبِرِی ۔ فَقَالَتْ إِلَیْکَ عَنِّی فَإِنَّکَ لاَ تُبَالِی بِمُصِیبَتِی فَقِیلَ لَہَا إِنَّہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخَذَہَا مِثْلُ الْمَوْتِ فَانْتَہَتْ إِلَی بَابِہِ فَلَمْ تَجِدْ بَوَّابِینَ فَدَخَلَتْ عَلَیْہِ فَقَالَتْ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی لَمْ أَعْرِفْکَ فقَالَ لَہَا : الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَۃٍ ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠٢٥٦) ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے انس (رض) سے سنا، وہ اپنے گھر والوں سے کہہ رہے تھے : کیا تم فلاں عورت کو جانتے ہو ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس سے گزرے۔ وہ قبر کے پاس رو رہی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ کہنے لگی : اپنے آپ کو لازم پکڑو میرے جیسی مصیبت آپ کو نہیں پہنچی۔ اس عورت سے کہا گیا : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے، وہ رو رہی تھی وہ آپ کے دروازے تک پہنچی۔ کوئی دربان نہ پا کر اندر داخل ہوئی اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں پہچان نہ سکی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بی بی صبر صدمہ کی ابتدا میں ہوتا ہے۔