(۲۰۲۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ الْجَعْدِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ : بَیْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعٌ فِی الْمَسْجِدِ إِذَا رَجُلٌ یَحْصِبُنِی فَرَفَعْتُ رَأْسِی فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ اذْہَبْ إِلَی ہَذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ فَائْتِنِی بِہِمَا فَذَہَبْتُ فَأَتَیْتُہُ بِہِمَا فَقَالَ لَہُمَا عُمَرُ مِمَّنْ أَنْتُمَا أَوْ مِنْ أَیْنَ أَنْتُمَا قَالاَ مِنْ أَہْلِ الطَّائِفِ قَالَ لَوْ کُنْتُمَا مِنْ أَہْلِ ہَذَا الْبَلَدِ لأَوْجَعْتُکُمَا ضَرْبًا تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَکُمَا فِی مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ عَنْ یَحْیَی وَالْجَعْدُ بْنُ أَوْسٍ ہَذَا ہُوَ الْجَعْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَوْسٍ وَیُقَالُ لَہُ جُعَیْدٌ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۷۰]
(٢٠٢٦٥) سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ میں لیٹا ہوا تھا۔ اچانک ایک آدمی کنکریاں مار رہا تھا۔ میں نے سر اٹھایا تو وہ عمر بن خطاب تھے اور فرما رہے تھے : ان دو آدمیوں کو میرے پاس لے کر آو۔ میں ان کو لے کر آیا تو حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تم کہاں سے آئے ہو اور کون ہو ؟ کہنے لگے : طائف سے۔ فرمایا : اگر تم اس شہر کے ہوتے تو میں تمہیں سخت سزا دیتا۔ تم مسجد نبوی میں آوازوں کو بلند کر رہے ہو۔