(۲۰۲۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : خَاصَمَ الزُّبَیْرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فِی شَرْجٍ مِنَ الْحَرَّۃِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : اسْقِ یَا زُبَیْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَائَ إِلَی جَارِکَ۔ فَقَالَ الأَنْصَارِیُّ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنْ کَانَ ابْنُ عَمَّتِکَ فَتَلَوَّنَ وَجْہُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ قَالَ: اسْقِ یَا زُبَیْرُ ثُمَّ احْبِسِ الْمَائَ حَتَّی یَرْجِعَ الْمَائُ إِلَی الْجَدْرِ ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَی جَارِکَ۔ قَالَ وَاسْتَوَعَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِلزُّبَیْرِ حَقَّہُ فِی صَرِیحِ الْحُکْمِ حِینَ أَحْفَظَہُ الأَنْصَارِیُّ قَالَ وَقَدْ کَانَ أَشَارَ عَلَیْہِمَا قَبْلَ ذَلِکَ بِأَمْرٍ کَانَ لَہُمَا فِیہِ سَعَۃٌ۔
قَالَ الزُّبَیْرُ فَمَا أَحْسَبُ ہَذِہِ الآیَۃَ نَزَلَتْ إِلاَّ فِی ذَلِکَ {فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوکَ فِیمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ} [النساء ۶۵] قَالَ فَسَمِعْتُ غَیْرَ الزُّہْرِیِّ یَقُولُ نَظَرْنَا فِی قَوْلِ النَّبِیِّ -ﷺ- : ثُمَّ احْبِسِ الْمَائَ حَتَّی یَرْجِعَ إِلَی الْجَدْرِ ۔ فَکَانَ ذَلِکَ إِلَی الْکَعْبَیْنِ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ مُخْتَصَرًا۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢٠٢٨٧) عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ آدمی نے حضرت زبیر سے حرہ کے نالہ کے پانی کے بارے میں جھگڑا کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے زبیر ! پانی پلاؤ باقی اپنے ہمسائے کے لیے چھوڑ دو ۔ انصاری کہنے لگا : یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے، اس لیے ! آپ کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ پھر فرمایا : اے زبیر ! پانی پلاؤ اور روکے رکھو، یہاں تک کہ منڈیروں تک جا پہنچے۔ پھر اپنے ہمسائے کی طرف چھوڑو تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر کو اس کا پورا حق دیا۔ جب انصاری نے اعتراض کیا، حالانکہ اس سے پہلے آپ نے وسعت والا معاملہ کیا تھا۔
زبیر فرماتے ہیں کہ یہ آیت اسکیبارے میں نازل ہوئی : { فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَھُمْ } [النساء ٦٥] ” اللہ کی قسم ! وہ ایماندار نہیں ہوسکتے، جب تک آپ کو اپنے فیصلوں میں فیصل نہ مان لیں۔ “ کہتے ہیں کہ میں نے زہری کے علاوہ دوسروں سے سنا کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول میں دیکھا کہ پانی روک یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک پہنچ جائے، یہ ٹخنوں تک تھا۔