hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 20299

.

سنن البيهقي

20299
Sunan Al Bayhaqi
(۲۰۲۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ وَہُوَ ابْنُ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ مَطَرٍ قَالَ : خَرَجْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ فَإِذَا رَجُلٌ یُنَادِی مِنْ خَلْفِی ارْفَعْ إِزَارَکَ فَإِنَّہُ أَنْقَی لِثَوْبِکَ وَأَتْقَی لَکَ وَخُذْ مِنْ رَأْسِکَ إِنْ کُنْتَ مُسْلِمًا فَمَشَیْتُ خَلْفَہُ فَقُلْتُ مَنْ ہَذَا فَقَالَ لِی رَجُلٌ ہَذَا عَلِیٌّ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ ثُمَّ أَتَی دَارَ فُرَاتٍ وَہُوَ سُوقُ الْکَرَابِیسِ فَقَالَ : یَا شَیْخُ أَحْسِنْ بَیْعِی فِی قَمِیصٍ بِثَلاَثَۃِ دَرَاہِمَ فَلَمَّا عَرَفَہُ لَمْ یَشْتَرِ مِنْہُ شَیْئًا ثُمَّ أَتَی آخَرَ فَلَمَّا عَرَفَہُ لَمْ یَشْتَرِ مِنْہُ شَیْئًا فَأَتَی غُلاَمًا حَدَثًا فَاشْتَرَی مِنْہُ قَمِیصًا بِثَلاَثَۃِ دَرَاہِمَ وَلَبِسَہُ مَا بَیْنَ الرُّسْغَیْنِ إِلَی الْکَعْبَیْنِ قَالَ فَجَائَ أَبُو الْغُلاَمِ صَاحِبُ الثَّوْبِ فَقِیلَ یَا فُلاَنُ قَدْ بَاعَ ابْنُکَ الْیَوْمَ مِنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ قَمِیصًا بِثَلاَثَۃِ دَرَاہِمَ قَالَ أَفَلاَ أَخَذْتَ دِرْہَمَیْنِ فَأَخَذَ أَبُوہُ دِرْہَمًا وَجَائَ بِہِ إِلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ فَقَالَ أَمْسِکْ ہَذَا الدِّرْہَمَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ : مَا شَأْنُ ہَذَا الدِّرْہَمِ؟ قَالَ : کَانَ قَمِیصًا ثَمَنَ دِرْہَمَیْنِ۔ قَالَ : بَاعَنِی بِرِضَایَ وَأَخَذَ بِرِضَاہُ۔ [ضعیف]
(٢٠٢٩٣) ابن نافع حضرت ابن مطر سے نقل فرماتے ہیں کہ میں مسجد سے نکلا تو پیچھے سے مجھے ایک آدمی نے آواز دی۔ اپنی چادر کو اوپر اٹھاؤ۔ یہ کپڑے کی صفائی کے لیے بھی بہتر ہے اور آپ کے لیے مناسب بھی ہے اور اپنے سر کے بالوں کو بھی کاٹو اگر مسلمان ہو۔ میں ان کے پیچھے چلا۔ میں نے کہا : یہ کون ہیں ؟ تو ایک آدمی نے جواب دیا : یہ امیرالمومنین حضرت علی (رض) تھے۔ راوی فرماتے ہیں کہ پھر وہ فرات کے گھر ائے، وہ کرابیس کا بازار ہے۔ اس نے کہا : اے شیخ ! تین درہم کے عوض قمیص فروخت کرو۔ جب اس نے پہچان لیا تو اس سے بیچا کچھ نہیں۔ جب دوسرے کے پاس آئے اس نے بھی پہچان کے بعد کچھ نہ بیچا۔ پھر ایک نوجوان غلام کے پاس اس نے تین درہم کے عوض قمیص بیچ دی۔ اس نے کلائی سے لے کر ٹخنوں تک پہن لی۔ غلام کا باپ کپڑے والے کے پاس آیا۔ کہا گیا : اے فلاں ! تیرے بیٹے نے آج امیرالمومنین کو تین درہم کے عوض قمیص بیچی ہے۔ راوی کہتے ہیں : غلام کے باپ نے کہا : آپ نے دو درہم کیوں نہ لیے ؟ تو غلام کے باپ نے ایک درہم لیا اور امیرالمومنین کے پاس لے کر آئے اور کہنے لگا : امیرالمومنین ! اپنا درہم لے لو۔ حضرت علی (رض) نے پوچھا : یہ درہم کیا ہے ؟ وہ کہنے لگا کہ قمیص کی قیمت دو درہم تھی۔ کہنے لگے : میں نے اپنی رضا مندی سے خریدی۔ اس نے رضا مندی سے مجھ سے درہم وصول کیے۔